واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بغیر کسی ڈیل کے بھی ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کیا جاسکتا ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور وہاں کی قیادت کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے بعض میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “فیک نیوز” قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران امریکی فوجیوں کو نشانہ بناتا ہے تو یہ تنازع دوبارہ جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔ عالمی برادری اس بات پر متفق ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں اور امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
ٹرمپ نے کوئلے کی صنعت کے لیے 700 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے 14 کول پاور پلانٹس اور 42 کوئلہ کانوں کے تحفظ کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دو نئے پلانٹس بھی تعمیر کیے جائیں گے۔
صدر نے کہا کہ امریکا میں ایک بڑا کول ایکسپورٹ ٹرمینل بھی قائم کیا جائے گا جس سے 14 ہزار سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس منصوبے کے نتیجے میں امریکی عوام کو بجلی کے اخراجات میں 50 ارب ڈالر تک ریلیف ملے گا اور صاف کوئلے کے ذریعے توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی میں کمی لائی جائے گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ حکومت توانائی کی قیمتیں کم کرنے کے لیے تاریخی اقدامات کر رہی ہے اور یہ اقدامات کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں کی مدد کریں گے۔
قومی سلامتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اہم اقدامات کیے ہیں اور آٹھ جنگیں رکوا چکے ہیں جبکہ مزید تنازعات کے خاتمے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات کا وسیع تجربہ حاصل ہے اور ایک اور جنگ کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہوں۔
روس اور یوکرین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک کے صدور ملاقات کریں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
ٹرمپ نے امریکی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے۔
لبنان کے حوالے سے ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ وہاں امن قائم ہوگا اس سلسلے میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور حزب اللہ سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔




















