اسلام آباد: پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتیاں بل 2025 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے نعرے بازی کی اور اسپیکر ڈائس کے سامنے ایجنڈا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
اجلاس میں مولانا فضل الرحمان، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر علی، اور دیگر نے بل میں شامل ترامیم پر بحث کی۔
مزید پڑھیں: پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ موخر کیوں ہوا؟ وجہ سامنے آگئی
اپوزیشن کا کہنا تھا کہ بل میں کچھ شقیں دوسرے قوانین پر فوقیت دیتی ہیں اور سوموٹو اختیارات دینے کے باعث آئین کے اصولوں کے خلاف ہیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی کہ ترامیم واپس لے لی گئی ہیں، اور قادیانی آئینی طور پر کافر ہیں، لہذا انہیں اس قانون کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
اجلاس میں سینیٹر نور الحق قادری نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت سب کی مشترکہ ترجیح ہے اور بل اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں ہے۔
وزیر قانون نے مزید کہا کہ اس بل کی منظوری کے بعد کسی بھی طرح سے ختم نبوت پر کوئی سمجھوتہ یا تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس؛ 18 منٹ میں 4 بل منظور
اجلاس میں سات دیگر بلز بھی منظور کیے گئے جن میں قومی اسمبلی ملازمین ترمیمی بل 2025، کنونشن برائے حیاتیاتی و زہریلے ہتھیار عملدرآمد بل 2024، پاکستان ادارہ برائے مینجمنٹ سائنسز و ٹیکنالوجی ترمیمی بل 2023، نیشنل یونیورسٹی برائے سیکیورٹی سائنسز 2023، اخوت انسٹی ٹیوٹ قصور 2023، گھرکی انسٹی ٹیوٹ برائے سائنس و ٹیکنالوجی بل 2025 شامل ہیں۔
نائب وزیر اعظم اسحق ڈار نے کہا کہ ختم نبوت پر ایمان ہے اور کسی بھی صورت میں اس کے خلاف قانون سازی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔
وزیر قانون نے کہا کہ قیدی نمبر 804 کو رہا کیا جائے، لیکن اسے ختم نبوت کے معاملے سے جوڑ کر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
اجلاس کے اختتام پر مشترکہ پارلیمانی اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا، جبکہ اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود بل کی منظوری عمل میں آئی۔


















