سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع سارانان کے علاقے ارجم کلی میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے ایک ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران ایک اہم مبینہ عسکری کمانڈر بصیر مارا گیا جبکہ اس کا ایک ساتھی گرفتار کر لیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے مشتبہ افراد کو شعبان کے علاقے سے ٹریس کیا تھا جہاں کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
مقامی سیکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والا بصیر ایک افغان نژاد کمانڈر نوراللہ کا بیٹا بتایا جاتا ہے جو مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز پر مختلف حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ بصیر اس سے قبل شعبان کے علاقے میں دراندازی کی کوشش کرنے والے گروہوں کا آپریشنل کمانڈر بھی رہا تھا۔
اسی حوالے سے 22 فروری 2026 کو اس کی نگرانی میں سرگرم ایک گروہ کے پانچ خودکش حملہ آوروں کو بھی پشین میں کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائی کو انسدادِ دہشتگردی مہم کے تحت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری انسدادِ دہشتگردی حکمت عملی کے تحت مختلف نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔

















