کراچی: وفاقی اردو یونیورسٹی میں اساتذہ اور انتظامیہ کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں اساتذہ نے اپنے مطالبات کی منظوری تک تدریسی عمل اور 8 جون سے شروع ہونے والے امتحانات کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
اساتذہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہونے تک امتحانات اور تعلیمی سرگرمیوں کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ تمام امتحانات مقررہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گے اور طلبہ کو کسی قسم کی پریشانی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔
رجسٹرار جامعہ اردو کے مطابق یونیورسٹی کے تمام امتحانات طے شدہ پروگرام کے تحت لیے جائیں گے اور انتظامیہ امتحانی عمل کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔
اساتذہ نے موجودہ وائس چانسلر کے دور کا احتساب کرنے، یونیورسٹی میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے اور انتظامی امور میں شفافیت لانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات منظور نہ کیے گئے تو احتجاج میں مزید شدت لائی جا سکتی ہے۔
اساتذہ اور انتظامیہ کے متضاد اعلانات کے باعث طلبہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ یہ سوال بھی جنم لے رہا ہے کہ آیا طلبہ مقررہ تاریخوں پر امتحانات دے سکیں گے یا نہیں۔ اس صورتحال کے باعث جامعہ میں غیر یقینی کی فضا برقرار ہے۔
اساتذہ اور ملازمین نے اپنے مطالبات میں ہاؤس سیلنگ کی تمام واجبات کی ادائیگی، ہاؤس سیلنگ میں 20 فیصد کٹوتی کا فیصلہ واپس لینے، تنخواہوں اور پنشن کے بقایاجات کی فوری ادائیگی، ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی اور 2022 میں مشتہر کی گئی آسامیوں کے لیے سلیکشن بورڈ کے فوری انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید برآں جبری طور پر برطرف کیے گئے اساتذہ و ملازمین کی بحالی، جلد ریٹائر ہونے والے اساتذہ کو ہارڈ شپ کی بنیاد پر ترقی، شام کے پروگراموں میں جزوقتی اساتذہ کے معاوضوں کی ادائیگی، داخلہ پالیسی میں مشروط طریقہ کار کا خاتمہ اور میرٹ پر مبنی داخلہ نظام کے نفاذ کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
اساتذہ نے یونیورسٹی میں میڈیکل پینلز کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج اور بائیکاٹ کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب انتظامیہ امتحانات کے انعقاد پر قائم ہے جس کے باعث جامعہ میں جاری تعلیمی بحران مزید سنگین صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

















