وفاق اور صوبوں کے درمیان بجٹ 2026-27 کے حوالے سے اہم مالیاتی امور پر اتفاق ہوگیا ہے۔ آئندہ تین سال کے دوران صوبے وفاقی اخراجات کے لیے اضافی فنڈ فراہم کریں گے۔ ذرائع کے مطابق صوبوں نے وفاقی حکومت کو فنڈز کی فراہمی کی حامی بھر لی ہے۔
این ایف سی شیئر اور اضافی گرانٹس
2026 سے 2028 تک صوبوں کو سالانہ تقریباً 8,200 ارب روپے کا این ایف سی شیئر ملنے کا امکان ہے، جبکہ اس دوران مجموعی طور پر صوبے ساڑھے 3 ہزار ارب روپے وفاق کو فراہم کریں گے۔ اضافی رقم وفاق کو اسٹریٹیجک اور اہم قومی اخراجات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
وفاقی بجٹ اور ٹیکس اقدامات
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی اضافی ٹیکس وصولیوں کا بڑا حصہ وفاق اپنے پاس رکھ سکے گا۔ بڑے صوبوں کا نسبتاً زیادہ حصہ وفاقی اخراجات کے لیے مختص ہونے کا امکان ہے، جس کے سبب وفاقی بجٹ کا حجم صوبوں سے اضافی گرانٹس ملنے کی وجہ سے بڑھ گیا ہے۔
نئے مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے اور تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کے لیے خصوصی اقدامات کی تجویز زیر غور ہے۔
دفاعی بجٹ تقریباً 3 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف 15,264 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
حکومتی محصولات اور دیگر آمدنی
حکومت محصولات بڑھانے کے لیے 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔ نان ٹیکس ریونیو کے تحت 2,768 ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ آئندہ مالی سال میں پٹرولیم لیوی سے 1,727 ارب روپے حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے 72 ارب روپے ونڈ فال منافع واپس لینے اور ان پر ونڈ فال گین ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
صوبائی مالی منصوبہ بندی پر اثرات
وفاقی حکومت اضافی وسائل مالی نظم و ضبط اور دفاعی ضروریات کے لیے حاصل کرے گی۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ این ایف سی شیئرنگ فارمولے میں نئے انتظامات صوبائی مالی منصوبہ بندی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
















