12 جون کو وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر اورنگ زیب شہباز حکومت کا تیسرا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کررہے ہیں۔
بجٹ وہ مالی منصوبہ ہے جس میں حکومت سالانہ طے کرتی ہے کہ آئندہ مالی سال ریاست کی آمدنی اوراخراجات کیا ہوں گے اورکیسے استعمال ہوں گے کبھی ملک میں بجٹ ایک مرتبہ آتا تھا لیکن90 کی دہائی کے بعد حکومتی معاشی مشیروں نے آمدنی میں اضافے اوراخراجات کے فرق سے نمٹنے کے لیے منی بجٹ کی روایت بھی ڈال دی ہے۔
قیام پاکستان سے 2025 تک 77 بجٹ پیش ہوچکے ہیں جس میں45 بجٹ جمہوری اور 32 غیرسیاسی حکومت میں پیش ہوئے۔
ایوب حکومت میں دس یحیٰ خان نے تین ضیاالحق حکومت میں 11 اور مشرف حکومت میں 8 بجٹ پیش ہوئے جو جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں کے 21 مختلف وفاقی وزیر خزانہ نے پیش کئے۔
دو بجٹ مشیر خزانہ نے 1971 میں ایم ایم احمد اور دوہزار اٹھارہ میں مفتاح اسماعیل نے پیش کئے، چھ بجٹ تین وفاقی وزیرمملکت امور خزانہ جس میں ایک خاتون بھی شامل ہیں نے پیش کئے جس میں عمرایوب نے 2005 سے2007 تک تین مرتبہ حناربانی کھر نے 2009 میں اور حماد اظہروزیرمملکت ریونیو نے 2019 اور 2020 میں پیش کئے تھے۔
ایک بجٹ 1969 میں وائس ایڈمرل ایس ایم احسن نےجب کہ ایک بجٹ چیف مارشل لا ایڈمسٹریٹر سابق آرمی چیف جنرل ضیاالحق نے 1978 میں پیش کیا اس بجٹ کی خاص بات بجٹ کو پہلی مرتبہ قومی زبان اردو میں پیش کیا گیا تھا۔
پاکستان کی تاریخ میں وفاقی بجٹ پیش کرنے والے پہلے وزیرخزانہ غلام محمد نے مسلسل چارسال 28 فروری 1948 سے 1951 تک دوسرے چودھری محمد علی نے مسلسل اگلے چار سال تک، سید امجد علی نے تین سال، محمد شعیب نے سات سال، عبدالقادر نے ایک سال، این ایم عقیلی نے دوسال، نواب مظفر علی قزلباش نے ایک مرتبہ، ڈاکٹر مبشر حسن نے تین بار، محمد حنیف نے دو دو بار، عبدالحفیظ پیرزادہ نے ایک مرتبہ، غلام اسحق خان نے چھ مرتبہ، ڈاکٹر محبوب الحق نے دو بار، محمد یاسین خان وٹو نے دوبار، احسان الحق پراچہ نے دوبار، سرتاج عزیز نے پانچ مرتبہ، اسحق ڈارنے سات بار، شوکت عزیز نے پانچ مرتبہ، نوید قمر نے ایک مرتبہ، عبدالحفیظ شیخ نے تین بار، مفتاح اسماعیل اور شوکت ترین نے ایک ایک مرتبہ بجٹ پیش کیا۔
پاکستان کے پہلے وزیرخزانہ غلام محمد ملک کے تیسرے گورنرجنرل بنے اور دوسرے وزیرخزانہ چودھری محمد علی اور شوکت عزیز وزیراعظم بھی بنے تھے۔
















