Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر صدر اور وزیراعظم کا پیغام

’پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا‘

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر قوم کے نام خصوصی پیغام جاری کیا گیا ہے۔

صدر آصف زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر، کشمیری عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کے اظہار کا دن ہے۔ کشمیری عوام کی بہادری، استقامت اور حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی تھے، بھارت کے غیر قانونی اقدامات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

’پاکستان ہر بین الاقوامی فورم پر کشمیری عوام کی آواز بلند کرتا رہے گا‘

آصف زرداری نے کہا کہ کشمیری عوام سات برس سے شدید پابندیوں اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

انکا کہنا تھا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، پاکستان ہر بین الاقوامی فورم پر کشمیری عوام کی آواز بلند کرتا رہے گا۔

صدر مملکت نے جموں و کشمیر کے عوام کے لیے قوت، صبر، استقامت اور پائیدار امن کی دعا کی اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ حل پر ہے، اقوامِ متحدہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لے۔

’پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا‘

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی یومِ استحصال کے موقع پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ حکومتِ اور پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ بھرپور انداز میں غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے، ہم اس دن کو اس عزم کے ساتھ مناتے ہیں کہ دنیا کو بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے سنگینی کی یاد دہانی کرائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی صریحا خلاف ورزی ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ سات برس گزر جانے کے باوجود یہ غیر قانونی اقدامات جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کر سکے نہ ہی کشمیری عوام کے اپنے جائز حقِ خودارادیت کے حصول کے عزم پختہ کو کمزور کر سکے ہیں، ان اقدامات نے بھارتی ریاستی جبر میں اضافہ کیا، بنیادی آزادیوں کو محدود کیا۔

انکا کہنا تھا کہ غیر قانونی قانون سازی و انتظامی اقدامات کے ذریعے مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی مکروہ کوششوں کو مزید تیز کیا، تمام مشکلات کے باوجود کشمیری عوام کا حوصلہ، استقامت اور ثابت قدمی آج بھی غیر متزلزل ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ان کی پُرامن اور منصفانہ جدوجہد آج بھی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ کشمیریوں کی مثالی جدوجہد انصاف، انسانی وقار اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والے تمام افراد اور اقوام کی حمایت اور احترام کی مستحق ہے۔

انہوں ںے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سب سے بنیادی اور دیرینہ حل طلب مسئلہ ہے، خطے میں پائیدار امن قراردادوں کے مطابق اس تنازع کے منصفانہ اور پُرامن حل سے ہی ممکن ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو محض تشویش کے اظہار تک محدود رہنے کے بجائے اس دیرینہ تنازع کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنا مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا، اس امر کا اعادہ کرتا ہوں کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ اور پُرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا، ان کی آواز کو ہر علاقائی اور بین الاقوامی فورم پر پوری قوت سے بلند کرتا رہے گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری بھارت پر زور دے کہ وہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرے اور اگست 2019 سے نافذ کیے گئے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات واپس لے۔

متعلقہ خبریں