کراچی: قائداعظم ہاؤس میوزیم کے “انسٹیٹیوٹ آف نیشن بلڈنگ” نے آج فلیگ اسٹاف ہاؤس میں ایک فکر انگیز لیکچر کا انعقاد کیا جس میں تعلیمی، صحافتی اور سماجی حلقوں کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
لیکچر کی مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عائشہ جلال تھیں جو ٹفٹس یونیورسٹی میں میری رچرڈسن پروفیسر آف ہسٹری ہیں اور قائداعظم و جنوبی ایشیائی ٍسیاست پر دنیا کی ممتاز محققین میں شمار ہوتی ہیں۔
اپنے پُراثر خطاب میں ڈاکٹر جلال نے فلسطین کے حوالے سے قائداعظم کے تاریخی مؤقف کا جائزہ پیش کیا اور اسے خطے کے موجودہ بحرانوں، بشمول ایران کی جاری جنگ سے مربوط کرتے ہوئے اہم مماثلتیں واضح کیں۔

لیکچر کے بعد سوالات و جوابات کا سیشن ہوا جس میں حاضرین نے تاریخ، سفارتکاری اور آج کے تناظر میں پاکستان کے کردار پر گہری گفتگو کی۔
تقریب کا آغاز قائداعظم ہاؤس میوزیم کے سینئر نائب چیئرمین لیاقت مرچنٹ کے خیرمقدمی کلمات سے ہوا۔ امینہ سعید، رکن بورڈ آف گورنرز، نے مقرر کا تعارف کرایا۔ تقریب کے اختتام پر اکرام سہگل، نائب چیئرمین قائداعظم ہاؤس میوزیم، نے شکریہ کے کلمات پیش کیے۔
مقرر کا تعارف
ڈاکٹر عائشہ جلال قائداعظم اور جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ پر متعدد اہم کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں دی سول اسپوکسمین: جناح، مسلم لیگ اینڈ دی ڈیمانڈ فار پاکستان، دی اسٹرگل فار پاکستان: اے مسلم ہوم لینڈ اینڈ گلوبل پولیٹکس، دی اسٹیٹ آف مارشل رول، پارٹیزنز آف اللہ: جہاد اِن ساؤتھ ایشیا اور ان کی حالیہ تصنیف مسلم اِن لائٹنڈ تھاٹ اِن ساؤتھ ایشیا شامل ہیں۔
انہوں نے سگتا بوس کے ساتھ ماڈرن ساؤتھ ایشیا بھی تحریر کی جبکہ دی آکسفورڈ کمپینین ٹو پاکستانی ہسٹری کی تدوین بھی ان کے علمی کام کا حصہ ہے۔
معزز مہمانان
اس موقع پر شہناز وزیر علی، نسرین جلیل، غازی اور صادقہ صلاح الدین، جنرل معین الدین حیدر، نورجہاں اور عقیل بلگرامی، سراج الدین عزیز سمیت تعلیم، سفارتکاری اور فنون سے وابستہ دیگر ممتاز شخصیات بھی موجود تھیں۔
قائداعظم ہاؤس میوزیم قائداعظم، پاکستان کی تاریخ، شناخت اور عالمی تناظر میں اس کے مقام پر بامقصد مکالمے کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔















