راولپنڈی میں اپارٹمنٹس سے 45 سالہ خاتون حنا جاوید کی لاش برآمد ہوئی ہے، پولیس کے مطابق مقتولہ کے ہاتھ بندھے اور گلے میں تار بندھی ہوئی تھی۔
راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں اپارٹمنٹس کے دوسرے فلور پر واقع فلیٹ کے باتھ روم سے 45 سالہ حنا جاوید کی لاش ملی۔ پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد شواہد اکٹھے کرلیے گئے ہیں جب کہ مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔
پولیس کو دی گئی درخواست کے مطابق حنا جاوید کی لاش جمعرات کی صبح باتھ روم سے ملی۔ مقتولہ کے دونوں ہاتھ کپڑے سے پیچھے کی جانب بندھے ہوئے تھے جب کہ منہ پر بھی کپڑا بندھا تھا، اس کے علاوہ گلے میں تار لپٹی ہوئی تھی جسے باتھ روم کے شاور سے باندھا گیا تھا۔
مقتولہ کے بھائی فہد جاوید ملک کے مطابق ان کے بہنوئی کے والد نے صبح سویرے فون کرکے بتایا کہ گھر میں ایمرجنسی ہے جس کے بعد وہ دیگر اہل خانہ کے ہمراہ فلیٹ پہنچے تو حنا جاوید کو مردہ حالت میں پایا۔
اہل خانہ نے حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر امام، ان کے گھریلو ملازم ذیشان ارشد اور سسر اصغر علی فیاض کو قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ حنا جاوید کی نومبر 2025 میں فیصل اصغر امام سے شادی ہوئی تھی۔
مقتولہ کے بھائی نے پولیس کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا کہ شادی کے بعد حنا کو شوہر کی جانب سے مبینہ طور پر مسلسل جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا تھا جب کہ مقتولہ نے ماضی میں بھی گھریلو تشدد کی شکایات کی تھیں۔
فہد جاوید ملک کا کہنا ہے کہ حنا جاوید ایک نیم سرکاری ادارے میں ملازمت کرتی تھیں جب کہ ان کے شوہر مختلف اوقات میں بے روزگار بھی رہے۔
درخواست میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ فیصل اصغر امام کی سابق اہلیہ کو بھی مبینہ طور پر تشدد کا سامنا رہا جس کے باعث انہوں نے طلاق حاصل کی۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 اور 34 کے تحت درج کیا ہے۔ دفعہ 302 قتل جب کہ دفعہ 34 مشترکہ ارادے کے تحت کئی افراد کی جانب سے کیے گئے مجرمانہ فعل سے متعلق ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے جب کہ مقتولہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کردی گئی ہے۔
سول لائنز تھانے کے ایس ایچ او کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تاہم ملزمان کی تلاش جاری ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جاسکتیں۔














