Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سیمی فائنل کی دوڑ: پاکستان مشکل مگر واضح ہدف حاصل کرپائے گا ؟  

پاکستان ایک بار پھر گروپ مرحلے کے اختتام پر رن ریٹ کے پیچیدہ حساب میں الجھ گیا ہے، تاہم اس بار راستہ اگرچہ کڑا ہے مگر بالکل واضح بھی ہے۔

انگلینڈ کی نیوزی لینڈ کے خلاف غیر متوقع کامیابی نے پاکستان کو سیمی فائنل تک رسائی کی مدھم سی امید دی ہے۔

نیوزی لینڈ کا رن ریٹ 1.390 ہے جبکہ پاکستان کا منفی 0.461۔ اس فرق کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کو سری لنکا کے خلاف تقریباً 64 رنز سے کامیابی حاصل کرنا ہوگی، یا ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے اسے لگ بھگ 13.1 اوورز میں مکمل کرنا ہوگا۔

کیا پاکستان محتاط انداز ترک کرے گا؟

گروپ مرحلے کے دوران پاکستان نے درمیانی اوورز میں محتاط حکمتِ عملی اپنائے رکھی، مگر موجودہ صورتِ حال جارحانہ انداز کی متقاضی ہے۔ بابر اعظم کی اس طرزِ کرکٹ میں جگہ پہلے ہی سوالات کی زد میں تھی، اور اب ان حالات میں ان کا دفاع مزید مشکل دکھائی دیتا ہے۔

کپتان سلمان آغا بھی اس ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی پیش نہیں کر سکے، انہوں نے پانچ اننگز میں صرف 60 رنز بنائے جن میں سے 38 ایک ہی میچ میں آئے۔

مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ، سیمی فائنلز اور فائنل کے ٹکٹس فروخت کے لیے دستیاب

پاکستان نے اب تک اس ورلڈ کپ میں ایسی بڑی کامیابی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کسی مکمل رکن ملک کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کبھی اتنے بڑے فرق سے نہیں جیتا، جبکہ تعاقب میں بھی صرف 2009 میں ایک بار ایسا ہوا۔

سری لنکا کی سست وکٹیں، درمیانی ترتیب میں پاور ہٹنگ کی کمی اور صائم ایوب کی خراب فارم راستہ مزید دشوار بناتی ہے۔

سری لنکا کے لیے اعزاز کی جنگ

میزبان سری لنکا پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکا ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف شاندار کامیابی کے بعد ان کی مہم زوال کا شکار ہوئی اور وہ سپر ایٹ مرحلے سے باہر ہونے والی پہلی ٹیم بنے۔ تاہم وہ پاکستان کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈال کر اعزاز بچانے کی کوشش کریں گے۔

نمایاں کھلاڑی

سری لنکا کے 23 سالہ بائیں ہاتھ کے اسپنر ڈیونتھ ویلالیج اس ٹورنامنٹ میں اپنی ساکھ مضبوط کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ پاکستان کی ٹاپ آرڈر میں دائیں ہاتھ کے بلے بازوں کی اکثریت کے باعث انہیں ابتدائی اوورز میں لایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب کپتان سلمان آغا کے لیے یہ میچ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر پاکستان ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا تو قیادت اور ٹیم میں ان کے کردار پر سوالات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

پچ اور حالات

پالی کیلے کی وہی وکٹ استعمال ہوگی جہاں انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف کھیلا تھا۔ اس سطح پر ابتدائی اوورز میں تیز گیندبازوں کو مدد ملی تھی۔ کینڈی میں موسم خشک ہے اور یہی صورتحال ہفتے کے اختتام تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔

اہم اعداد و شمار

یہ میچ سلمان آغا کی قیادت میں پچاسواں مقابلہ ہوگا۔ وہ اس سنگِ میل تک پہنچنے والے دوسرے پاکستانی کپتان ہیں، پہلے بابر اعظم 85 میچوں میں قیادت کر چکے ہیں۔

سری لنکا اور پاکستان آخری بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں 2012 کے سیمی فائنل میں مدِ مقابل آئے تھے، جہاں سری لنکا نے کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ 2009 کے فائنل میں پاکستان نے سری لنکا کو شکست دے کر اعزاز جیتا تھا۔

اب تمام نظریں اس سوال پر مرکوز ہیں کہ کیا پاکستان غیر معمولی کارکردگی دکھا کر نیوزی لینڈ کی سیمی فائنل تک رسائی روک سکے گا، یا ایک اور ورلڈ کپ کی مہم رن ریٹ کے پیچیدہ حساب میں دم توڑ دے گی؟