Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چینی محققین نے زیادہ محفوظ اور زیادہ پائیدار نامیاتی بیٹریاں تیار کر لیں

روایتی لیتیھئم آئن بیٹریاں کوبالٹ ور نکل جیسے غیرنامیاتی کیتھوڈ مواد پر انحصار کرتی ہیں

چینی سائنسدانوں نے لیتھیئم آئن بیٹری کی ایک نئی نامیاتی قسم  تیار کی ہے جو زیادہ محفوظ اور لچکدار ہے اور کارکردگی کے درینہ مسائل کو حل کرتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی تیانجن یونیورسٹی اور ساؤتھ چائنہ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر تیار کی اور یہ تحقیق بین الاقوامی سائنسی جریدے نیچر میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔

تیانجن یونیورسٹی کے پروفیسر شویون ہوا کی قیادت میں ٹیم نے ایک نامیاتی کیتھوڈ مواد تیار کیا جو لیتھیئم آئن بیٹریوں کی توانائی کی کثافت اور چارجنگ کی رفتار میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔ یہ پیش رفت نامیاتی بیٹریوں کے عملی استعمال میں درپیش رکاوٹیں دور کرتی ہے۔

اس وقت زیادہ تر روایتی لیتیھئم آئن بیٹریاں کوبالٹ ور نکل جیسے غیرنامیاتی کیتھوڈ مواد پر انحصار کرتی ہیں، تاہم مواد کے حوالے سے وسائل کی کمی، محدود میکانی لچک اور سخت حالات میں کارکردگی میں کمی جیسے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لکڑی کا استعمال کرتے ہوئےدلچسپ سوڈیم آئن بیٹری تیار

ان مسائل کے پیش نظر محققین نے نامیاتی الیکٹروڈ مواد کی جانب توجہ دی ہے جو وافر، ماحول دوست اور ساخت کے لحاظ سے موافقت پذیر ہوتے ہیں، اصل چیلینج زیادہ توانائی کی کثافت کے ساتھ تیز رفتار چارجگ کو یقینی بنانا تھا۔

اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ٹیم نے ایک ایسا نامیاتی کیتھوڈ تیار کیا ہےجس میں اعلیٰ الیکٹرانک کنڈکٹیوٹی، لیتھیئم آئن کی تیز تر نقل و حرکت اور زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

نئے کیتھوڈ کے استعمال سے ٹیم نے ایک پاؤچ بیٹری تیار کی جس کی توانائی کی کثافت 250 واٹ آور فی کلوگرام سے زائد ہے جو روایتی لیتھیئم آئرن فاسفیٹ بیٹریوں سے بہتر کارکردگی دکھاتی ہے، نئی بیٹری نے غیر معمولی حرارتی استحکام بھی ظاہر کیا اور منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ سے 80 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت میں مستحکم طورپر کام کیا۔

اس کے علاوہ بیٹری نے مضبوط میکانی لچک اور بہتر حفاظتی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ تجربات میں نامیاتی کیتھوڈ نے موڑنے یا دباؤ ڈالنے کے بعد بھی اپنی ساخت کی سالمیت اور مکمل گنجائش برقرار رکھی۔