Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہاؤس ارتھ کا راستہ انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے، ماہرین کا انتباہ

گرین لینڈ اور مغربی انٹارکٹکا میں پگھلاؤ کا عمل شاید شروع ہوچکا ہے

ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ عالمی حدت ایسے نازک موڑ کے قریب پہنچ رہی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی۔

سائنس دانوں کے مطابق اگر موجودہ رفتار سے درجہ حرارت میں اضافہ جاری رہا تو زمین مختلف موسمیاتی “ٹِپنگ پوائنٹس” کو عبور کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا سلسلہ وار ردعمل شروع ہوگا جو دنیا کو “ہاؤس ارتھ” یعنی شدید گرم اور غیر مستحکم سیارے میں تبدیل کرسکتا ہے۔

تحقیقی جائزے کے مطابق موجودہ 1.3 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے نے ہی دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہروں، تباہ کن بارشوں، سیلاب اور جنگلاتی آگ جیسے واقعات کو بڑھا دیا ہے، جن سے ہزاروں جانیں ضائع اور کروڑوں افراد کا روزگار متاثر ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درجہ حرارت 3 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تو عالمی معیشتیں اور معاشرتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، جب کہ “ہاؤس ارتھ” کی صورت حال اس سے کہیں زیادہ ہولناک ہوگی۔

عوام اور پالیسی ساز خطرے سے بے خبر

ماہرین کا کہنا ہے کہ عام شہری اور پالیسی ساز اس سنگین خطرے کی شدت سے پوری طرح آگاہ نہیں۔ اگرچہ جیواشم ایندھن کے استعمال میں فوری اور بڑی کمی ایک مشکل ہدف سمجھا جاتا ہے، لیکن سائنس دانوں کے مطابق اگر زمین ہاؤس ارتھ کے راستے پر چل نکلی تو صرف اخراج کم کرنا بھی اسے واپس لانے کے لیے ناکافی ہوسکتا ہے۔

امریکی سائنس دان ڈاکٹر کرسٹوفر وولف کے مطابق بعض حدوں کو عبور کرنے کے بعد زمین ایک ناقابلِ واپسی راستے پر گامزن ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت گزشتہ ایک لاکھ پچیس ہزار برس کی بلند ترین سطح پر ہے، جب کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار تقریباً بیس لاکھ سال کی بلند ترین حد تک پہنچ چکی ہے۔

Tim Lenton، جو University of Exeter سے وابستہ ہیں، خبردار کرتے ہیں کہ موجودہ سمت زمین کو انسانی بقا کے لیے کم موزوں بنا سکتی ہے اور صرف 3 ڈگری اضافے کے بھی گہرے سماجی و معاشی خطرات ہیں۔

اہم موسمیاتی نظام عدم استحکام کا شکار

جریدے One Earth میں شائع ہونے والے تازہ تجزیے میں 16 اہم موسمیاتی عناصر اور ان سے جڑے فیڈبیک لوپس کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ان میں گرین لینڈ اور انٹارکٹکا کی برفانی چادریں، پہاڑی گلیشیئرز، قطبی سمندری برف، آرکٹک کے جنگلات، مستقل منجمد زمین (پرما فراسٹ)، ایمیزون کا جنگل اور بحرِ اوقیانوس کا طاقتور سمندری بہاؤ نظام (AMOC) شامل ہیں، جو عالمی موسم پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ گرین لینڈ اور مغربی انٹارکٹکا میں پگھلاؤ کا عمل شاید شروع ہوچکا ہے، جب کہ ایمیزون اور پرما فراسٹ خطرناک حد کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

اگر ایمیزون کے جنگلات بڑے پیمانے پر تباہ ہوئے تو وہاں سے خارج ہونے والی کاربن گیس عالمی حدت میں مزید تیزی لائے گی اور دیگر موسمیاتی نظاموں کو بھی عدم استحکام کی طرف دھکیل دے گی۔

ماہرین کے مطابق اگر زمین ہاؤس ارتھ کی کیفیت میں داخل ہوگئی تو درجہ حرارت ہزاروں برس تک بلند رہ سکتا ہے، سمندر کی سطح نمایاں حد تک بڑھ سکتی ہے اور ساحلی شہر زیرِ آب آسکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں انسانی معاشرے اچانک، تباہ کن اور ناقابلِ واپسی اثرات کا سامنا کریں گے۔