اسرائیل نے ایران کے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں ہنگامی اقدامات کردیے ہیں جس کے تحت حکومت نے اسکول اور دفاتر بند کردیے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے اور اسپتالوں کے مریضوں کو زیر زمین محفوظ علاقوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع کاتز نے پورے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا اور شہریوں کو ایرانی حملوں کے خطرے سے آگاہ کیا۔
فوج نے ریزرو اہلکاروں کو طلب کرکے سرحدی علاقوں اور حساس مقامات کی حفاظت مضبوط کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
پولیس نے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت دی ہے تاکہ سیکیورٹی اور ہنگامی گاڑیاں بلا رکاوٹ حرکت کرسکیں۔
ابتدائی میزائل حملوں سے چند مقامات پر معمولی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ اسرائیلی شہری بم شیلٹرز تک فوری رسائی کے لیے ملک گیر الارم سسٹم کی ہدایات پر عمل کررہے ہیں۔
یروشلم میں شہری خوراک خریدنے اور نقد رقم نکالنے کے لیے دکانوں کی جانب دوڑتے دکھائی دیے جب کہ تل ابیب کے قریب شیبا میڈیکل سینٹر نے تمام وارڈز کو زیر زمین منتقل کرکے ہنگامی تیاری مکمل کرلی ہے۔
میڈیکل سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل اتائی پیساچ نے کہا کہ اسپتال نے تمام خدمات اور شعبوں کو محفوظ علاقوں میں منتقل کرکے ہنگامی حالات کے لیے تیار کرلیا ہے۔


















