نئی دہلی: کانگریس نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دورہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی کے دوران عالمی قوانین اور بھارت کی تاریخی خارجہ پالیسی کے منافی ہے۔
کانگریس کا موقف ہے کہ مودی کا یہ اقدام ایران پر حالیہ حملوں کی بالواسطہ حمایت کے مترادف سمجھا جائے گا اور بھارت کے متوازن سفارتی مؤقف کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔
کانگریس نے خبردار کیا کہ بھارت کے اسرائیل دورے سے نہ صرف خطے میں امن اور استحکام متاثر ہوسکتا ہے بلکہ کشمیر کے معاملے پر بھی بھارت کے مؤقف کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
پارٹی نے زور دیا کہ خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے اصول ہر جگہ یکساں لاگو ہونے چاہیے اور بھارت کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی سے گریز کرنا چاہیے۔
کانگریس نے کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ عدم تشدد اور عدم وابستگی پر مبنی رہی ہے اور مودی کا دورہ قومی انتخابات سے قبل سیاسی پیغام کے طور پر بھی سمجھا جاسکتا ہے جس سے ریاستی سفارت کاری پر سیاسی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
پارٹی نے تجویز دی کہ بھارت کو فریق بننے کے بجائے ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے اور فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے تاکہ خطے میں بھارت کے معاشی اور سیاسی مفادات محفوظ رہیں۔
کانگریس نے یہ بھی کہا کہ مودی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ تعلقات حکومتوں سے نہیں ریاستوں سے ہوتے ہیں اور بھارت کو عالمی اعتماد اور اخلاقی تشخص کے تحفظ کے لیے اپنی اصولی پوزیشن برقرار رکھنی چاہیے۔
انہوں نے عالمی قوانین پر مبنی نظام کی حمایت دہرائی اور کہا کہ جنگی ماحول میں سیاسی دورے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھاتے ہیں بلکہ بھارت کو تنازع کا حصہ بھی بناسکتے ہیں۔


















