مشرق وسطیٰ میں تناؤ شدت اختیار کر گیا، امریکا نے ایک بار پھر ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جس کے بعد ایران نے بحرین اور کویت میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی تنصیبات پر حملے کا دعویٰ کیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایران میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کو سنگاپور کے تجارتی جہاز پر حملے کے بعد معاہدے کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا تاہم ایران نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر ڈرون حملہ کیا۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون نے پاناما کے ایک آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا جو حملے کے وقت تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل سے لدا ہوا تھا اور آبنائے ہرمز کے قریب موجود تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی جس کے دوران ایرانی فوج کے نگرانی کے نظام، مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ڈرون اور بارودی سرنگوں کے ذخائر کو بھی تباہ کیا گیا جبکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج مکمل طور پر چوکس ہیں اور کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کارروائیوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائی ایران کے ساحلی علاقوں پر مبینہ امریکی حملوں کے ردعمل میں کی گئی، اگر امریکا نے مزید فوجی کارروائی کی تو ایران اس سے کہیں زیادہ سخت اور وسیع جواب دے گا۔
بحرین، کویت اور عراق میں ممکنہ حملوں کے پیش نظر سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور خطے میں ہائی الرٹ جاری ہے۔


















