مکہ مکرمہ میں اس سال یومِ عرفہ ایک منفرد اور حیرت انگیز فلکیاتی منظر کا گواہ بنے گا جب سورج عین خانہ کعبہ کے اوپر آ جائے گا اور چند لمحوں کے لیے سایہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ ماہرین کے مطابق ایسا منظر دہائیوں بعد دیکھنے کو مل رہا ہے۔
فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ 27 مئی 2026 کو دوپہر کے وقت سورج ایسی پوزیشن اختیار کرے گا جہاں اس کی شعاعیں سیدھی خانہ کعبہ پر پڑیں گی۔ اس دوران مکہ مکرمہ میں عمودی اشیا کا سایہ تقریباً ختم ہو جائے گا جسے ماہرین ایک اہم فلکیاتی مظہر قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سورج سال میں دو مرتبہ خانہ کعبہ کے عین اوپر آتا ہے کیونکہ مکہ مکرمہ زمین کے اُس حصے میں واقع ہے جہاں سورج کی ظاہری حرکت یہ زاویہ بناتی ہے۔ تاہم اس مرتبہ اس واقعے کی خاص اہمیت یہ ہے کہ یہ یومِ عرفہ کے دن پیش آ رہا ہے جو تقریباً 33 برس بعد ممکن ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ایسا اتفاق 1993 میں دیکھا گیا تھا۔ قمری اور شمسی کیلنڈرز کے فرق کے باعث یہ نایاب مطابقت کئی دہائیوں بعد دوبارہ وجود میں آتی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کے محکمہ موسمیات نے واضح کیا ہے کہ اس فلکیاتی منظر کا شدید گرمی سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ ادارے کے مطابق موسم کی شدت کا انحصار نمی، ہوا، بادلوں اور فضائی دباؤ جیسے مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان حسین القحطانی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ موسم یا فلکیاتی معلومات کے لیے صرف مستند اداروں کی ہدایات پر اعتماد کیا جائے۔



















