انٹارکٹیکا کے برفیلے اور پراسرار خطے میں سائنسدانوں نے ایک ایسا چھوٹا مگر اہم جزیرہ دریافت کیا ہے جسے طویل عرصے سے نقشوں میں خطرناک زون کے طور پر نشان زد کیا جا رہا تھا لیکن اصل حقیقت پہلی بار سامنے آئی ہے۔
جرمنی کے پولر ریسرچ ادارے کے محققین ایک مہم کے دوران بحیرہ وڈل کے شمال مغربی حصے میں برف اور سمندری حالات کا جائزہ لے رہے تھے کہ اچانک انہیں ایک غیر متوقع زمینی ساخت نظر آئی۔
موسم کی خرابی اور تیز ہواؤں کے باعث ٹیم کو عارضی طور پر جزیرہ جونوِل کے قریب پناہ لینا پڑی جہاں ساحلی نقشوں اور سیٹلائٹ ڈیٹا کے تجزیے کے دوران ایک ایسا علاقہ سامنے آیا جسے نیویگیشن کے لیے خطرناک سمجھا جاتا تھا۔ تاہم زمینی مشاہدے نے اس مفروضے کو بدل دیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک برفانی ابھار محسوس ہوا، مگر قریب جانے پر یہ واضح ہوا کہ یہ کوئی برف نہیں بلکہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جو پانی کی سطح سے تقریباً 16 میٹر بلند ہے۔ جدید ایکو ساؤنڈنگ اور ڈرون سروے کے بعد اس کی پیمائش تقریباً 426 فٹ لمبائی اور 164 فٹ چوڑائی بتائی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کہ اس علاقے کو ڈینجر زون کیوں قرار دیا گیا، اس بارے میں کوئی واضح ریکارڈ موجود نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پرانے سیٹلائٹ ڈیٹا کی کم ریزولوشن اور نامکمل نقشہ سازی کی وجہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی ہو سکتی ہے۔
ابھی اس جزیرے کو باضابطہ طور پر کوئی نام نہیں دیا گیا اور ماہرین اس کے لیے نام رکھنے کے بین الاقوامی عمل کی تیاری کر رہے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ بحیرہ وڈل کے بڑے حصے ابھی مکمل طور پر نقشہ بند نہیں ہوئے، اور یہ دریافت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انٹارکٹیکا آج بھی کئی چھپے ہوئے راز اپنے اندر رکھتا ہے۔



















