چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں ان کی جماعت بھرپور کامیابی حاصل کرے گی اور غذر کی تینوں نشستیں پیپلز پارٹی کے حصے میں آئیں گی۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور غذر کے عوام کا تعلق نیا نہیں بلکہ کئی نسلوں پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ نسلوں کا ساتھ ہے اور یہ رشتہ نسل در نسل چلا آ رہا ہے۔
انہوں نے حال ہی میں پرنس رحیم آغا خان سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پیرس میں پرنس رحیم آغا خان سے ملاقات کا موقع ملا جہاں مختلف امور پر تعمیری گفتگو ہوئی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ایوان صدر کو بھی پرنس رحیم آغا خان کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے گزشتہ انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کی جماعت سے نو نشستیں چھینی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا، “پچھلے الیکشن میں پیپلز پارٹی کی نو سیٹیں چھینی گئی تھیں لیکن اس بار کوئی ہم سے سیٹ نہیں چھین سکے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 7 جون کو ہونے والے گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیابی حاصل کرے گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور سابق وزیر اعظم شہید بے نظیر بھٹو نے گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت کی اور اب ان کا مشن مکمل کرنا پیپلز پارٹی کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو حقِ حاکمیت دلانا، 18ویں ترمیم کے تناظر میں آئینی تحفظ کو برقرار رکھنا اور حقِ ملکیت سے متعلق قانون سازی کو مکمل کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ بے نظیر بھٹو کے دور میں غذر کو ضلع کا درجہ دیا گیا تھا اور پیپلز پارٹی ہمیشہ عوامی خدمت پر یقین رکھتی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی نے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور مختلف معاملات میں ان کا حق دلانے کی کوشش کی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ انہیں گلگت بلتستان سے مضبوط عوامی مینڈیٹ درکار ہے تاکہ وہ وفاقی حکومت کے سامنے علاقے کے مطالبات مؤثر انداز میں رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا، مجھے بھاری مینڈیٹ چاہیے تاکہ اسلام آباد کو کہہ سکوں کہ گلگت بلتستان کے مطالبات سننا پڑیں گے۔
اپنی تقریر میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی نے دو مرتبہ وزیر اعظم شہباز شریف کی حمایت کی اور انہیں وزیر اعظم بنانے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گلگت بلتستان کو شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
بلاول بھٹو نے وعدہ کیا کہ اگر عوام نے پیپلز پارٹی کو موقع دیا تو گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کی طرح زیادہ اختیارات دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت گزشتہ تین نسلوں سے گلگت بلتستان کی سیاست میں موجود ہے اور وہ زنجیرِ بے نظیر کے خواب کو ملک کے پانچوں صوبوں تک پھیلانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابات گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں زیادہ اہم ہیں اور اگر عوام نے اعتماد کیا تو غذر میں نشستوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان سے اپنے ایک کارکن کو وزیر اعلیٰ بنانا چاہتی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے زمینوں کی ملکیت کے مسئلے کو بھی اپنی تقریر کا اہم حصہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کے عوام کو حقِ ملکیت دلاؤں اور جو قانون سازی ہم نے کرائی ہے اس پر مکمل عملدرآمد بھی ہو۔ ان کے مطابق علاقے کے عوام کو زمینوں کی ملکیت کے حقوق دلانے کے لیے پیپلز پارٹی کی حکومت ضروری ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں گلگت بلتستان ہاؤسنگ پروجیکٹ شروع کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو نے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو اپنے حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور بہتر مستقبل کے لیے ووٹ ڈالیں۔
روزگار کے موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقِ روزگار بھی ان کے منشور کا اہم حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزگار کی فراہمی پیپلز پارٹی کی تین نسلوں کا ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جبکہ بے نظیر بھٹو نے بھی ملازمتوں کی فراہمی کو ترجیح دی۔
بلاول بھٹو نے کہا، “بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ اگر نوکریاں دینا جرم ہے تو میں یہ جرم بار بار کروں گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کے اقتدار سے باہر ہونے کے بعد مختلف حکومتوں نے روزگار کے مواقع بڑھانے کے بجائے ملازمتیں ختم کیں جبکہ وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت سرکاری اداروں سے لوگوں کو بے روزگار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر 7 جون کو پیپلز پارٹی کی حکومت منتخب ہوئی تو نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر روزگار فراہم کیا جائے گا اور انہیں فنی تربیت کے مواقع بھی دیے جائیں گے تاکہ وہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔
اپنی تقریر میں انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق ایک منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو اسے سندھ اور گلگت بلتستان تک بھی توسیع دی جائے گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جو اپنے وعدوں پر عملدرآمد کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے پاس نہ واضح منشور ہے اور نہ نظریاتی سمت۔
صحت کی سہولیات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت عالمی معیار کی مفت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے اور وہاں صحت کے کئی منصوبے عوام کو مفت خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سے خیرپور تک دل کے امراض کے علاج کے لیے قائم کیے گئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیوویسکیولر ڈیزیز میں گلگت بلتستان کے شہری بھی مفت علاج کرا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق خیرپور میں جگر اور گردے کی پیوندکاری کی سہولت بھی مفت دستیاب ہے جبکہ کینسر کے مریض کراچی آ کر مہنگا علاج بلا معاوضہ حاصل کر سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ سندھ کے ہر ضلع میں ماں اور بچے کے علاج کی مفت سہولت فراہم کی گئی ہے اور ان کی جماعت عوامی فلاح و بہبود کے ایسے منصوبوں کو مزید وسعت دینا چاہتی ہے۔


















