Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

طلبہ اور والدین کیلئے بری خبر؟ کاپیاں، قلم اور اسکول کا سامان مزید مہنگا ہونے کا خدشہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اضافی ٹیکس کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے

نئے مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں کے دوران تعلیمی اخراجات میں اضافے کی ایک اور وجہ سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے اسٹیشنری مصنوعات پر دی گئی ٹیکس رعایت ختم کرنے کی تجویز کی حمایت کی ہے جس کے بعد کاپیوں، رجسٹروں، قلموں اور دیگر تعلیمی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکومت فنانس بل 2026-27 میں اسٹیشنری سیکٹر پر عائد سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اگر یہ تجویز حتمی شکل اختیار کر گئی تو یکم جولائی 2026 سے نئی شرح نافذ ہوسکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹیکس رعایت ختم ہونے کی صورت میں تعلیمی اور دفتری استعمال کی متعدد اشیا براہِ راست متاثر ہوں گی جن میں کاپیاں، رجسٹر، پین، پینسل اور دیگر اسٹیشنری مصنوعات شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اضافی ٹیکس کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے جس سے گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ بڑھے گا۔

حکومتی سطح پر بجٹ میں مختلف شعبوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ اور مراعات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ محصولات بڑھانے کے لیے بعض استثناؤں کو محدود کرنے پر بھی غور جاری ہے۔

معاشی حلقوں کے مطابق اگر سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد تک پہنچتی ہے تو اسٹیشنری مصنوعات پر ٹیکس کا بوجھ تقریباً دوگنا ہو جائے گا جس کے نتیجے میں تعلیمی سامان اور دفتری ضروریات کی لاگت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔