Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آزاد کشمیر: بیشتر مطالبات منظور، مذاکرات جاری؛ احتجاج کے بجائے مکالمے کی ضرورت پر زور

احتجاجی سیاست کے بجائے مکالمہ، آئینی عمل اور پارلیمانی طریقہ کار ہی مسائل کے مستقل حل کی ضمانت دے سکتے ہیں

آزاد جموں و کشمیر  میں جاری عوامی تحریک اور احتجاجی صورتحال کے حوالے سے حکومتی اور سیاسی حلقوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکراتی عمل جاری ہے اور بڑے پیمانے پر پیش رفت ہو چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج مؤخر نہ کرنے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں حالانکہ اس معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی سیاسی وفد نے باضابطہ مذاکرات کیے۔

اس وفد میں وفاقی وزراء اور سینئر سیاسی رہنما شامل تھے جن میں احسن اقبال، طارق فضل چوہدری، رانا ثناءاللہ، قمر زمان کائرہ، راجہ پرویز اشرف اور چوہدری یاسین سمیت دیگر نمائندے اور آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت شامل تھی۔

حکومتی مؤقف کے مطابق جے اے اے سی  کے 38 میں سے 35 مطالبات پر پیش رفت یا منظوری دی جا چکی ہے جس کے بعد باقی رہ جانے والے تین نکات زیادہ تر مالیاتی پالیسی، آئینی ڈھانچے اور سیاسی اتفاق رائے سے متعلق ہیں، جنہیں سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔

معاشی اعداد و شمار کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کا سالانہ ریونیو تقریباً 60 ارب روپے ہے جبکہ مجموعی بجٹ 300 ارب روپے سے زائد ہے۔ وفاق پاکستان کی جانب سے سالانہ 240 سے 250 ارب روپے تک مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے تاکہ ترقیاتی اور عوامی خدمات جاری رہ سکیں۔

اسی طرح پاکستان کی حکومت کی جانب سے 1989 سے بے گھر ہونے والے تقریباً 63 ہزار مہاجرین کو وظائف کی مد میں سالانہ تقریباً 15 ارب روپے فراہم کیے جاتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ آئینی نوعیت رکھتا ہے اور اس میں کسی بھی تبدیلی کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے اور آئینی طریقہ کار ضروری ہے۔

حکومتی اور سیاسی حلقوں کا مؤقف ہے کہ احتجاجی سیاست کے بجائے مکالمہ، آئینی عمل اور پارلیمانی طریقہ کار ہی مسائل کے مستقل حل کی ضمانت دے سکتے ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ وہ تمام فریقین کے دعوؤں کو حقائق کی روشنی میں پرکھیں اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو معاشی سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی کو متاثر کریں۔

مجموعی طور پر مؤقف یہی سامنے آ رہا ہے کہ آزاد کشمیر کا مستقبل تصادم نہیں بلکہ مذاکرات، اصلاحات اور سیاسی اتفاق رائے سے جڑا ہوا ہے۔