Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نئے بحران کا خدشہ، پنجاب اور سندھ سے 51 لاکھ ٹن گندم غائب

حکام کو خدشہ ہے کہ گندم کی بڑی مقدار ممکنہ طور پر ذخیرہ کر لی گئی ہو سکتی ہے

ملک میں گندم کی دستیابی کے حوالے سے ایک نیا معاملہ سامنے آگیا ہے جہاں پنجاب اور سندھ میں لاکھوں ٹن گندم کے ریکارڈ میں فرق نے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گندم کی صورتحال اور ممکنہ ذخیرہ اندوزی کے جائزے کے لیے ہونے والے اہم اجلاس میں انکشاف ہوا کہ پنجاب میں تقریباً 45 لاکھ ٹن جبکہ سندھ میں 6 لاکھ ٹن گندم کے حوالے سے ریکارڈ مطابقت نہیں رکھتا۔

اجلاس کے دوران پنجاب حکام نے دیگر صوبوں سے رابطہ کر کے معلوم کیا کہ آیا یہ گندم کسی دوسرے علاقے کو منتقل کی گئی تھی تاہم صوبائی حکام نے ایسی کسی منتقلی سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

حکام کو خدشہ ہے کہ گندم کی بڑی مقدار ممکنہ طور پر ذخیرہ کر لی گئی ہو سکتی ہے جس کے باعث مستقبل میں مارکیٹ میں قلت پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال کی بروقت اور شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو ملک کو دوبارہ بیرون ملک سے گندم خریدنا پڑ سکتی ہے، جس سے درآمدی اخراجات میں اضافہ ہوگا۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کیے جانے کے بعد نجی شعبے کی جانب سے خریداری کا عمل توقع کے مطابق آگے نہ بڑھ سکا۔ پنجاب حکومت نے تاجروں کو گندم خریدنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تاہم کاروباری طبقے نے بینک فنانسنگ اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

رپورٹس کے مطابق سیزن کے آغاز میں سندھ اور خیبرپختونخوا میں گندم کی قیمت 4500 روپے فی من تک پہنچ گئی تھی جبکہ خدشات سامنے آئے کہ بعض عناصر نے کسانوں سے گندم خرید کر ذخیرہ کر لی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گندم خریداری کے نظام میں حالیہ برسوں کے دوران بڑی تبدیلیاں کی گئیں جن میں سرکاری خریداری کے بجائے نجی شعبے کو زیادہ کردار دینا شامل ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کی اصل وجوہات سامنے لانے کے لیے غیر جانبدار تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ ملک کو دوبارہ گندم بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

متعلقہ خبریں