Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

برکلے گرینڈ کمپلیکیشن: دنیا کی سب سے پیچیدہ گھڑی

اس غیر معمولی پاکٹ واچ کو اپنی 63 مختلف کمپلیکیشنز کے باعث دنیا کی سب سے پیچیدہ گھڑی  ہونے کا اعزاز حاصل ہے

گھڑی سازی کی دنیا میں اگر کسی شاہکار کو انسانی ذہانت، باریک بینی اور فنی مہارت کی معراج کہا جائے تو وہ ویشرون کانسٹنٹن کی برکلے گرینڈ کمپلیکیشن ہے۔ اس غیر معمولی پاکٹ واچ کو اپنی 63 مختلف کمپلیکیشنز کے باعث دنیا کی سب سے پیچیدہ گھڑی  ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

خیال رہے کہ گھڑی سازی کی اصطلاح میں کمپلیکیشن سے مراد وہ ہر اضافی خصوصیت ہے جو صرف وقت بتانے کے بنیادی عمل سے آگے بڑھ کر کوئی اور کام انجام دے۔ مثال کے طور پر تاریخ، دن، الارم، اسٹاپ واچ یا چاند کی منازل دکھانے والا نظام بھی کمپلیکیشن کہلاتا ہے۔ برکلے گرینڈ کمپلیکیشن میں ایسی 63 منفرد خصوصیات موجود ہیں جو اسے فنِ گھڑی سازی کا ایک بے مثال معجزہ بناتی ہیں۔

سن 2015 میں سوئٹزرلینڈ کی معروف کمپنی ویشرون کانسٹنٹن نے ریفرنس 57260 کے نام سے ایک منفرد پاکٹ واچ پیش کی، جو ایک گمنام مگر شوقین کلیکٹر کی خصوصی فرمائش پر تیار کی گئی تھی۔ اس آرڈر میں کئی غیر معمولی تقاضے شامل تھے، جن میں عبرانی دائمی کیلنڈر  اور ایک منفرد اسپلٹ سیکنڈز کرونوگراف بھی شامل تھا، جو ایک ہی وقت میں متعدد واقعات کا درست وقت ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس شاہکار کی تیاری میں ماہر گھڑی سازوں کو آٹھ برس لگے۔ یہی گھڑی بعد ازاں مزید تحقیق، جدت اور مہارت کے ساتھ ترقی کرتے ہوئے برکلے گرینڈ کمپلیکیشن کی صورت اختیار کر گئی جو آج دنیا کی سب سے پیچیدہ گھڑی سمجھی جاتی ہے۔

تقریباً دو انچ قطر رکھنے والی اس پاکٹ واچ کا کیس 18 قیراط سفید سونے سے تیار کیا گیا ہے جبکہ اس کا وزن تقریباً 960 گرام (دو پاؤنڈ) ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس میں موجود کمپلیکیشنز کی تعداد اس سے پہلے کی ریکارڈ ہولڈر گھڑی پیٹیک فلپ کیلیبر 89 سے تقریباً دوگنی ہے کیونکہ اس گھڑی میں صرف 33 کمپلیکیشنز تھیں۔

ویشرون کانسٹنٹن کے خصوصی شعبے اٹیلیئر کابینوتیئرز کے سربراہ ڈومینیک برناز کے مطابق”ابتدا میں ہمارا ہدف صرف 36 کمپلیکیشنز تیار کرنا تھا کیونکہ اس وقت دنیا کی سب سے پیچیدہ گھڑی میں 33 کمپلیکیشنز موجود تھیں۔ لیکن جیسے جیسے منصوبہ آگے بڑھتا گیا نئے خیالات اور نئی تکنیکی کامیابیاں شامل ہوتی گئیں۔ منصوبے کے نصف حصے تک پہنچنے کے بعد بھی ہمیں یقین نہیں تھا کہ آخری تعداد کیا ہوگی۔ ہر نئی کمپلیکیشن اپنی جگہ ایک بڑی کامیابی تھی مگر اصل امتحان ان تمام پیچیدہ نظاموں کو ایک ہی گھڑی میں سمو دینا تھا۔”

نظریاتی طور پر شاید ایسی گھڑی بنانا ممکن ہو جس میں اس سے بھی زیادہ کمپلیکیشنز ہوں لیکن اس کے لیے گھڑی کا حجم غیر معمولی حد تک بڑا کرنا پڑے گا۔ برکلے گرینڈ کمپلیکیشن کی اصل خوبی یہی ہے کہ اس کے ماہر کاریگروں نے 63 پیچیدہ مکینیکل نظاموں کو نہایت محدود جگہ میں نہ صرف نصب کیا بلکہ انہیں اس انداز سے ترتیب دیا کہ ہر فیچر قابلِ استعمال اور واضح رہے۔

یہ دو رُخی پاکٹ واچ 2,870 نہایت باریک اور انتہائی درست مکینیکل پرزوں پر مشتمل ہے۔ ہر پرزہ اپنی جگہ ایک انجینئرنگ کا شاہکار ہے، اور ان تمام حصوں کا ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا انسانی مہارت کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔

اگرچہ اس گھڑی کی اصل قیمت کبھی ظاہر نہیں کی گئی تاہم ماہرین کے مطابق اس کی مالیت ایک کروڑ امریکی ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔ چونکہ یہ اپنی نوعیت کا واحد نمونہ ہے، اس لیے توقع کی جاتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی قدر و قیمت میں مزید اضافہ ہوگا۔

ممکن ہے مستقبل میں کوئی اور گھڑی اس کا ریکارڈ توڑ دے کیونکہ سوئس گھڑی ساز صدیوں سے ایک دوسرے سے بڑھ کر شاہکار تخلیق کرتے آ رہے ہیں۔ تاہم فی الحال برکلے گرینڈ کمپلیکیشن نہ صرف دنیا کی سب سے پیچیدہ گھڑی ہے بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیت، فنی مہارت اور مکینیکل انجینئرنگ کا ایک ایسا شاہکار بھی ہے جسے گھڑی سازی کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔