Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کاتسوبوشی: دنیا کی سب سے سخت تیار کی جانے والی مچھلی

کاتسوبوشی کئی کھانوں کا بنیادی جز ہے یہ جاپانی کھانوں میں استعمال ہونے والے مشہور شوربے 'ڈاشی' کی جان ہے

کاتسوبوشی جاپانی کھانوں میں استعمال ہونے والی خشک، اسموک کی گئی اور خمیر شدہ اسکیپ جیک ٹونا مچھلی ہے جسے گنیز ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے دنیا کی سب سے سخت ترین غذا ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

کاتسوبوشی جاپانی کھانوں کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ اسکیپ جیک ٹونا (بونیٹو) مچھلی سے تیار کی جاتی ہے جسے کئی مہینوں تک ایک طویل اور پیچیدہ عمل سے گزارا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ لکڑی کے ٹکڑے کے مانند سخت ہو جاتی ہے۔

کاتسوبوشی اسکیپ جیک ٹونا کو ابالنے، دھواں دینے، خمیر کرنے اور طویل عرصے تک خشک کرنے کے بعد تیار کی جاتی ہے۔ اس سارے عمل کے اختتام پر مچھلی میں نمی صرف تقریباً 18 فیصد رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ پتھر کی طرح سخت ہو جاتی ہے اور توڑنے پر قیمتی پتھر کی طرح چمکتی ہے۔

اس کی تیاری کا آغاز منجمد اسکیپ جیک ٹونا سے ہوتا ہے۔ مچھلی کو پہلے 24 گھنٹے پانی میں رکھ کر ابلا جاتا ہے، پھر اس کے قتلے بنا کر ایک خاص دیگچی میں تقریباً 90 منٹ تک ہلکی آنچ پر پکایا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے ٹھنڈا کر کے ہڈیاں، کھال اور اضافی چربی نکال دی جاتی ہے۔ اس مرحلے پر مچھلی میں پانی کی مقدار تقریباً 68 فیصد ہوتی ہے۔

اس کے بعد قتلے لکڑی کے ڈھکن والی ٹوکریوں میں رکھ کر تقریباً ایک گھنٹہ لکڑی کے دھویں میں سُکھائے جاتے ہیں اور پھر ٹھنڈا کیے جاتے ہیں۔ یہ عمل تقریباً ایک ماہ تک بار بار دہرایا جاتا ہے۔ دھواں مچھلی کی نمی کم کرتا ہے، اضافی چربی نکالتا ہے اور اسے خراب ہونے سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اس مرحلے تک مچھلی میں نمی تقریباً 28 فیصد رہ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مچھلیاں بھی خود شناسی کا مظاہرہ کرسکتی ہیں،تحقیق

اعلیٰ معیار کی کاتسوؤبوشی تیار کرنے کے لیے مچھلی پر اسپرگیلس گلوکس نامی پھپھوندی کا محلول اسپرے کیا جاتا ہے اور اسے تقریباً 20 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت والے ایک مخصوص کمرے میں رکھا جاتا ہے۔ دو ہفتوں بعد پھپھوندی سے ڈھکے ہوئے قتلے نکال کر دو دن دھوپ میں خشک کیے جاتے ہیں، پھر دوبارہ پھپھوندی لگا کر مزید دو ہفتوں کے لیے رکھ دیے جاتے ہیں۔ یہ عمل کئی مہینوں تک بار بار دہرایا جاتا ہے، یہاں تک کہ مچھلی میں نمی کی مقدار 18 سے 20 فیصد تک رہ جاتی ہے۔

اس عمل میں پھپھوندی نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ نمی جذب کر کے خشک ہونے کے عمل کو تیز کرتی ہے، چربی کو قابلِ حل فیٹی ایسڈز میں تبدیل کرتی ہے، پروٹین کو امائنو ایسڈز میں توڑتی ہے اور نقصان دہ جراثیم کی افزائش کو بھی روکتی ہے۔

تیار  خمیر شدہ کاتسوؤبوشی لکڑی کی طرح سخت، نہایت نازک اور پالش کرنے پر رنگین شیشے یا کرسٹل جیسی دکھائی دیتی ہے۔ استعمال کے وقت اسے ایک خاص رندے نما آلے سے نہایت باریک تہوں میں کھرچ کر استعمال کیا جاتا ہے۔

کاتسوبوشی کئی کھانوں کا بنیادی جز ہے یہ جاپانی کھانوں میں استعمال ہونے والے مشہور شوربے ‘ڈاشی’ کی جان ہے، جو کھانوں کو ایک منفرد ذائقہ فراہم کرتی ہے۔