بیجنگ: سائنس دانوں نے فضا میں بہنے والے ایسے پوشیدہ دریاؤں کا پہلا جامع نقشہ تیار کرلیا ہے جو زمین پر بارش کے نظام کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ نظر نہ آنے والے دریائی راستے بادلوں میں موجود نمی کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک منتقل کرتے ہیں اور دنیا کے کئی خطوں میں بارش کا اہم ذریعہ ہیں۔
نئی تحقیق میں جنوبی امریکا کے فضائی نمی کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ سمندروں، زمین، جنگلات اور پودوں سے خارج ہونے والی نمی مخصوص فضائی راستوں کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے اور مختلف علاقوں میں بارش کا باعث بنتی ہے۔
محققین نے ان فضائی دریاؤں کے بنیادی ذرائع، ان کے بہاؤ کے راستوں اور ان مقامات کی نشاندہی بھی کی جہاں نمی کی مقدار نمایاں طور پر کم ہوجاتی ہے۔

محققین کے مطابق بعض علاقے زیادہ نمی حاصل کرتے ہیں جب کہ کچھ علاقوں تک پہنچتے پہنچتے یہ نمی کم ہوجاتی ہے جس سے وہاں پانی کی قلت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی اور زمینی ماحولیاتی نظام میں تبدیلیاں ان فضائی دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کرسکتی ہیں جس کے نتیجے میں بارشوں کے معمولات، آبی وسائل اور زرعی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلات کا تحفظ اور بڑے پیمانے پر شجرکاری ان فضائی نمی کے راستوں کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ان پوشیدہ دریاؤں کی مسلسل نگرانی اور مؤثر منصوبہ بندی کی جائے تو مستقبل میں پانی کے بحران سے نمٹنے اور آبی وسائل کے بہتر انتظام میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔




















