سائنس دانوں نے سورج میں چاندی کی مقدار سے متعلق کئی برس پرانے معمے کا ممکنہ حل تلاش کرلیا ہے۔
سائنس دانوں نے نظام شمسی میں چاندی کی مقدار سے متعلق ایک پرانے سوال کا جواب تلاش کرلیا ہے جس نے ماہرین فلکیات کو کئی برسوں سے حیران کر رکھا تھا۔
تحقیق کے مطابق قدیم شہابیوں میں چاندی کی مقدار سورج کے مقابلے میں زیادہ نظر آتی تھی، حالانکہ دونوں تقریباً 4 ارب 60 کروڑ سال قبل ایک ہی گرد و غبار اور گیس کے بادل سے وجود میں آئے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سورج اور شہابیے ایک ہی وقت اور ایک ہی مادے سے بنے تو ان میں موجود عناصر کی مقدار بھی تقریباً ایک جیسی ہونی چاہیے تھی تاہم نئے مطالعے نے اس فرق کی وجہ تلاش کرلی ہے۔
نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سورج میں پہلے اندازوں کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ چاندی موجود ہے۔
اگرچہ سورج کی مجموعی کمیت کا زیادہ تر حصہ ہائیڈروجن اور ہیلیم پر مشتمل ہے لیکن اس میں موجود معمولی مقدار میں دیگر عناصر بھی کائناتی تاریخ کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین نے سورج سے خارج ہونے والی روشنی کے تجزیے کے لیے زیادہ جدید طریقہ استعمال کیا۔ سورج کی بیرونی فضا سے گزرنے والی روشنی میں موجود مخصوص نشانیاں یہ بتاتی ہیں کہ وہاں کون سے عناصر موجود ہیں۔
تحقیق میں سورج اور اس کی روشنی کے اخراج کا زیادہ تفصیلی تین جہتی ماڈل تیار کیا گیا جس کی مدد سے چاندی کے ایٹموں کے رویے اور روشنی کے ساتھ ان کے تعامل کو بہتر انداز میں سمجھا گیا۔
سویڈن کی جامعہ اوپسالا سے تعلق رکھنے والی ماہر فلکیات سیما کالسکان کے مطابق نئے ماڈل کی مدد سے سورج میں چاندی کی مقدار کا زیادہ درست اندازہ لگانا ممکن ہوا۔
سائنس دانوں کے مطابق نئی دریافت سے سورج میں موجود چاندی کی مقدار قدیم شہابیوں میں موجود مقدار کے تقریباً برابر آگئی ہے جس سے نظام شمسی کی تشکیل سے متعلق کئی سوالات کے جواب ملنے میں مدد ملے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج میں موجود عناصر کی درست مقدار جاننا صرف نظام شمسی ہی نہیں بلکہ کہکشاں کی کیمیائی ارتقا کو سمجھنے کے لیے بھی اہم ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چاندی جیسے عناصر ستاروں کے اختتام کے مراحل میں بھی بنتے ہیں، اس لیے ان کا مطالعہ کائنات کے ابتدائی دور اور ستاروں کی تشکیل کے عمل کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
سائنس دان اب اسی بہتر ماڈل کو دوسرے ستاروں پر آزمانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ کائنات میں چاندی کہاں بنتی ہے اور وقت کے ساتھ یہ مختلف حصوں میں کیسے پھیلی۔




















