Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

سیلاب سے متاثرہ شناخت سے محروم خواتین الیکشن میں حق رائے دہی کیسے استعمال کریں گی 

Now Reading:

سیلاب سے متاثرہ شناخت سے محروم خواتین الیکشن میں حق رائے دہی کیسے استعمال کریں گی 

پاکستانی خواتین کو انتخابی عمل کے دوران کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ لیکن 2022 میں آنے والے سیلاب کے بعد دیہی علاقوں میں لوگوں کے گھر بار تباہ ہوگئے جو تاحال جڑ نہیں سکے

فروری 2024 کو ملک میں عام انتخابات ہو رہے ہیں سیلاب متاثرہ علاقوں میں بہت سی خواتین کو ضروری شناختی دستاویزات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے یا ان کے پاس ووٹر کے طور پر اندراج کرنے کے لیے ضروری معلومات موجود نہیں ہے۔ ایسے تمام لوگ ایسی کمیونٹی بن چکے ہیں جو شناخت سے محروم ہیں۔

سندھ کے ضلع خیرپور کے علاقے سوبھوڈیرو کے کچے کی  رہائشی 45 سالہ امیراں بی بی کا کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث ان کا مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ وہ اور ان کا خاندان  صرف کچھ قیمتی سامان لے کر نکلنے میں کامیاب ہوسکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلابی صورتحال کے دوران ان کا شناختی کارڈ گم ہو گیا تھا جو ابھی تک  نہیں بنوا سکیں۔

امیراں کے مطابق نادرا کا دفتر کچی سے کافی دور ہے جس کی وجہ سے ان کا جانا مشکل ہے اور وہ اس الیکشن میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گی، حالانکہ وہ ماضی میں کئی بار اپنا ووٹ کاسٹ کر چکی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر 2023 میں خواتین ووٹرز کی تعداد 58,472,014 ہے لیکن 2018 میں یہ تعداد 46,730,570 تھی۔ جبکہ اعداد شمار کے مطابق سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبہ سندھ میں خواتین ووٹرز کی تعداد  12,208,439 ہے۔

Advertisement

واضح رہے صوبہ سندھ کے دادو، جیکب آباد، قمبر، شہداد کوٹ، خیرپور میرس، میرپور خاص، جامشورو، سانگھڑ، عمر کوٹ، بدین، شہید بینظیر آباد اور نوشہرو فیروز اضلاع سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

ضلع دادو میں خواتین ووٹرز کی تعداد  426,165 ہے، جیکب آباد میں 272,773 خواتین ووٹرز ہیں، قمبر شہدادکوٹ میں 368,042، خیرپور میرس میں 640,827، میرپور خاص میں 398,735، جامشورو میں  216,630، سانگھڑ میں 549,172 ، عمرکوٹ میں 276,523، بدین میں 432,665، شہید بینظیر آباد میں  421,398 اور ضلع نوشہرو فیروز میں خواتین ووٹرز کی مجموعی تعداد  430,484 ہے۔

جبکہ بلوچستان کے اضلاع صحبت پور، جھل مگسی اور جعفرآباد میں سیلابی پانی انسانی زندگی کو زیادہ متاثر کیا۔ صحبت پور میں خواتین ووٹرز کی تعداد  55,527 ہے، جھل مگسی میں  32,578، اور جعفر آباد میں 62,502 خواتین ووٹرز کی تعداد ہے۔

عورتوں  کے حقوق کے حوالے سے متحرک سماجی کارکن ماروی اعوان کا کہنا ہے کہ انتخابات میں ہر شہری کا حصہ لینا بہت ضروری ہے چاہے وہ عورت ہو، مرد ہو یا خواجہ سرا ہو۔

ماروی اعوان کے مطابق  2022 میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے بہت سارے لوگ ابھی تک سنبھل نہیں سکے، انہیں شناخت کے حوالے سے کوئی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں جس کے باعث وہ پریشان ہیں اور یہ بات عام انتخابات میں بہت زیادہ اثر انداز ہونے والی ہے۔ حکومت کو چاہیے کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کیمپس لگائیں، سیلاب کی تباہی کی وجہ سے جن افراد کے دستاویزات گم ہو گئے ہیں وہ حاصل کر سکیں اور انتخابی عمل کا حصہ بنیں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

سماجی کارکن ماروی اعوان کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں مردانہ سماج کے باعث عورت کے ووٹ کے حق پر شیڈو ہوتا ہے، ایسی وجہ سے وہ آزادانہ فیصلہ نہیں کر پاتیں، انہیں حق رائے دہی میں آزادی نہیں ہوتی ، ان حالات میں اگر عورت ووٹ کاسٹ ہی نہیں کر پائے گی تو یہ ان کی محرومیوں میں اضافہ ہوگا،  کیونکہ ووٹ بنیادی حق ہے، آنے والے وقت کے لیئے آپ اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں اس لیے عورتوں کی آزادانہ شمولیت بھی ضروری ہے

Advertisement

انہوں نے کہا کہ اکثر علاقوں میں مرد کی لیڈرشپ جیت جاتی ہے، اگر کہیں عورت الیکشن میں کھڑی ہو جائے تو اس پر زیادہ دباؤ ہوتا یا اسے زیادہ ووٹ نہیں ملتے، یہاں مرد لیڈرشپ جیتنے کی بڑی وجہ مرد ووٹرز کی تعداد زیادہ ہونا ہے اگر خواتین زیادہ ووٹ کاسٹ کریں گی تو وہ اپنی لیڈرشپ منتخب کریں گی، اس طرح خواتین کی سیاسی شمولیت زیادہ ہوگی،  جب عورت فیصلہ سازی کے عمل میں آئے گی تو خواتین کے مسائل کو سمجھتے ہوئے بہتر پالیسیز اور بہتر قانون سامنے لائے گی

ماروی اعوان کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں اور عام طور پر خواتین کو معلومات اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے علم نہیں ہوتا کے ووٹ کا اندراج کیسے کروانا ہے، اگر ان کی شادی ہوتی ہے وہ ایک شہر سے دوسرے شہر  یا ایک صوبے سے دوسرے صوبے جاتی ہیں تو انہیں مشکالات کا سامنا ہوتا ہے

 اس عمل کو خصوصاً خواتین کے لیے آسان بنایا جائے اور حکومت کی طرف سے الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر مہم سازی ہونی چاہیے اور زیادہ سے زیادہ فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کئے جائیں تاکہ خواتین اپنا ووٹ اندراج کروائیں اور انتخابات میں بھرپور حصہ لیں۔

 اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ  2017 کے مطابق ووٹ آپ شناختی کارڈ پر موجود عارضی یا مستقل پتے پر ہی درج کرواسکتے ہیں ۔ جبکہ  جہاں تک بات ہے سیلاب سے متاثرہ ووٹرز کی ان کے لیئے صوبائی حکومت کی مدد سے جامع پلان ترتیب دیا جا رہا ہے۔

 الیکشن کمیشن ذرائع کا اس سلسلے میں  مزید بتانا تھا کہ نادرا کو ہدایات جاری کی جاچکی ہیں  تاکہ  وہ متاثرہ علاقوں میں شناختی کارڈ کی ڈرائیوو چلائے  کیونکہ  بغیر شناختی کارڈ کے بغیر ووٹ نہیں ڈالا جاسکتا  جبکہ  ان علاقوں کی پولنگ اسٹیشنوں کی بحالی کا کام بھی کیا جائے گا

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے حلقہ بندیاں اور ووٹرز فہرستیں تیار کی جا چکی ہیں اور انتخابات کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں لیکن سیلاب متاثرہ علاقوں کی خواتین کی بڑی تعداد آج بھی اپنی شناخت سے محروم ہے۔

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
سعودی عرب میں عازمین حج کی آمدورفت کے لیے فلائنگ ٹیکسی کا آغاز
وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے ہیلتھ انشورنس کا اعلان
بجٹ پر ایم کیو ایم پاکستان کا ردعمل سامنے آ گیا
آئی ایم ایف کی غلامی کی دستاویز کو بجٹ کا نام دیا گیا ہے، حافظ نعیم الرحمن
آئندہ مالی سال 25-2024 کے لیے 18کھرب87 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کر دیا گیا
ورلڈ اکنامک فورم نے گلوبل جینڈرگیپ رپورٹ 2024 جاری کر دی
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر