Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

دریائے قُم کے کنارے پر دوستوں کا انتظار

Now Reading:

دریائے قُم کے کنارے پر دوستوں کا انتظار

معصومۂ قم کی درگاہ کی دوسری جانب دریائے قم کے کنارے پر بنی دیوار پر بیٹھ کر وقت کاٹنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔ جو وقت ہم نے طے کیا تھا، میں اُسی وقت پر پہنچ گیا اور اب انتظار ہے۔ ہمارا دوست گاڑی کا ڈرائیور ہی نہیں لوٹا، وہ آتا تو میں گاڑی میں بیٹھ کر سنگت کا انتظار کرتا مگر لگتا ہے کہ سب سنگت والے راستہ بُھول گئے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ مہدِ علیا کی قبر پر چلا جاؤں۔ آپ پوچھیں گے کہ یہ کون ہستی ہیں؟ ظاہر ہے سوال تو بنتا ہے۔ مہدِ علیا کا اصل نام خیرالنسا بیگم تھا اور مہدِ علیا کا مقصد یوں سمجھ لیں کہ اس کی گود اعلی ترین جُھولا تھی۔ یہ ایران کے موجودہ شہر اور ماضی کی ریاست مازندران کی شہزادی تھی جہان پر مرعشیان سلطنت قائم تھی۔ یہ سلطنت 1359ء سے 1596ء تک 237 برس مازندران میں قائم رہی۔ خیرالنساء بیگم کی شادی صفوی بادشاہ محمد خدابندہ سے ہوئی تھی۔ خیرانساء بیگم اور شاہ خدابندہ کا بیٹا شاہ عباس اول صفوی سلطنت کاعظیم ترین بادشاہ کہلایا۔ عباس اول اپنی ماں کے انتقال کے نو سال بعد اپنے باپ محمدخدا بندہ کا تختہ اُلٹ کر تخت نشین ہوا تھا۔ غالباً اورنگ زیب عالمگیر کی طرح عظیم بادشاہ بننے کیلئے ماں کی موت کے بعد باپ کا تخت اُلٹنا ضروری ہوتا ہے۔
خیرالنساء بیگم المعروف مہدِ علیا کا انتقال 1579ء میں ہوا تھا اور ان کی میت 667 کلومیٹر کا فاصلہ کر کے تبریز سے قُم لائی گئی اور یہاں اس کی تدفین ہوئی جبکہ اس کے معزول بادشاہ شوہر محمد خدابندہ کی میت کو قزوین سے 936 کلومیٹر دور کربلا لے جایا گیا اور امام حسین کے روضہ کے پاس دفن کیا گیا۔
اچھا مجھ سے یہ سوال مت کیجیئے گا کہ کہ 26 جولائی 1579ء کو انتقال کر جانے والی خیرالنساءبیگم کی میت کو اس قدر گرمی میں سینکڑوں کلو میٹر دور کس سواری پر لایا گیا ہوگا۔ کیونکہ ریل گاڑی ملکہ مہدِ علیا کے انتقال کے لگ بھگ تین صدیوں کے بعد ایجاد ہوئی تھی اور ہوائی جہاز کی ایجاد تو ابھی پچھلی صدی میں ہوئی۔
میں اپنی سوچوں میں گُم اپنے دوستوں کے انتظار میں بیٹھا ہوں۔ سب راستہ بھول گئے یا مجھ کو بھول گئے یا وطن واپس جانا بھول گئے۔ میں 12 بج کر 58 منٹ پر لوٹ آیا تھا مگر دوستوں کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ کم از کم منظر نقوی تو آ جاتے۔ یہ تو شکر ہے دیوار پر درختوں کا سایہ پڑ رہا ہے اور اس سائے کا فیض مجھ تک بھی پہنچ رہا ہے۔ یہاں درخت نہ ہوتے تو دیوار مجھے یہاں بیٹھنے تو نہ دیتی۔ میں خیرالنساء بیگم کی قبر پر نہ جاسکا۔ میں حقیرفقیر ترقی کو ترستی پسماندہ تیسری دنیا کا تیسرے اور چوتھے درجے کا ایک عام سا شخص بادشاہ کی بیٹی، بادشاہ کی بیوی، بادشاہ کی ماں، بادشاہوں کی دادی پردادی کی قبر جا کرکون سے سُرخاب کے پر لگا لیتا۔
اب سوچ رہا ہوں کہ مہدی بازرگان کی قبر پر چلا جاؤں۔ ان کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔ایران میں جب انقلاب کو آتا دیکھ کر رضاشاہ پہلوی بھاگ گیا۔ پھر اس کا آخری وزیراعظم شاہ پور بختیار بھی شاہ کے تخت کا سہارا نہ بن سکا تو رہبرِانقلاب آیتہ اللہ خمینی نے مہدی بازرگان کو عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا۔ مہدی بازرگان کی جمہوری جدوجہد کا ایک طویل اور شاندار دور رہا ہے۔ وہ ایران کی تحریکِ آزادی کے نامور ارکان میں شامل تھے۔ 4 فروری سے 11 فروری 1979ء تک مسلسل ایک ہفتہ آیتہ اللہ خمینی کی طرف سے مہدی بازرگان کی نامزدگی کے بعد شاہ پور بختیار بھی اپنے آپ کو وزیراعظم کہتا رہا مگر ایک ہفتہ کے اختتام سے پہلے ہی وہ ملک سے فرار ہو گیا۔ مہدی بازرگان نے شاہ پور بختیار کے فرار کے چار روز بعد اپنی سات رکنی کابینہ کا اعلان کیا، جس میں ابراہیم یزدی نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ تھے۔ ابراہیم یزدی بھی ایران کی تحریکِ آزادی کے ایک ممتاز رہنما تھے۔ جب اسی سال اپریل میں تہران میں پاسدارانِ انقلاب نے امریکی سفارتخانے کا محاصرہ کر لیا تھا تو ابراہیم یزدی نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا۔ مہدی بازرگان وزیراعظم بننے سے پہلے یونیورسٹی آف تہران میں شعبۂ انجنیئرنگ کے پہلے سربراہ تھے۔

Advertisement
مہدی بازرگان ایک آذربائیجانی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے والد حاجی عباس قُلی تبریزی ایک مشہور تاجر تھے۔ مہدی بازرگان نے فرانس میں تھرموڈائنامکس کے شعبہ میں تعلیم حاصل کر کے ڈگری لی تھی۔مہدی بازرگان کو 20 جنوری 1995ء کو سوئیٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں دل کا دورہ پڑا۔ دراصل وہ امریکہ جا کر اپنے دل کا علاج کرانا چاہتے تھے مگر زیورخ پہنچنے پر ہی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ ان کی وصیت اور خاندان کی مرضی سے اُن کی میت قُم لائی گئی اور یہیں پر اُن کی تدفین ہوئی مگر میں اُن کی قبرپر نہیں جا سکتا۔ مجھے دوستوں کا انتظار کرنا ہے جو مجھے اور اپنی وطن واپسی کو بھلا چکے ہیں۔
خدا خدا کرکے علی فاطمی اور گاڑی کا ڈرائیور پُل پر چلتے بلکہ ٹہلتے نظر آئے تو میری جان میں جان آئی۔ ابھی ڈیڑھ بجے سے اوپرٹائم ہو رہا ہے۔ ہمارا جمکران جانے کا پروگرام اب دھرے کا دھرا رہ گیا۔ یہ طے ہواتھا کہ بی بی معصومۂ قم کی درگاہ پر حاضری کے بعد جمکران اور پھر سے وہاں سے ایئرپورٹ جائیں گے۔ اب ہم لمحہ لمحہ گن رہے ہیں۔ سنگت اور دوستوں سے ناراض ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ جہاں ہم بیٹھے ہیں، وہاں سے بہت ہی قریب بہت سی چیزیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں مگر ہمیں خدشہ یہ ہے کہ ہمارے اُٹھتے ہی دوست آ گئے تو یہ اچھا نہیں ہوگا۔ بہرحال ڈرائیور نے ہمیں دیوار سے اُٹھا کر گاڑی میں بٹھایا اور ٹھنڈی مشین چلادی۔ یہاں تو پانی کی بوتل ہماری کرنسی میں بارہ روپے میں ملتی ہے اور پٹرول دس روپے لیٹر ملتا ہے۔ اس لئے ایئرکنڈیشنر چلنے پر ہمارے دل ایسے نہیں دُکھتا جیسے اپنے ملک میں درد ہوتا ہے۔ لیجیئے جناب منظر نقوی آ رہے ہیں۔ چلیں کوئی بات کرنے اور سمجھنے والا تو ہوگا۔
ہمارے پاس وقت ہوتا تو ہم ایران کے اُن علماء کی درگاہوں پر حاضر ہوتے جو کبھی سامراج کے آلۂ کار نہیں رہے جو سُکھ اور دُکھ کی گھڑیوں میں اپنے عوام کے ساتھ جم کر کھڑے رہے۔ ہم محمد حسین طباطبائی کی درگاہ پر جاتے، انہوں نے تفسیرالمیزان کے نام سے قرآنی تفسیر کی 27 جلدیں لکھیں۔ ہم مجلس خبرگانِ رہبری کے سابق رکن میر اسداللہ مدنی کی درگاہ پر حاضر ہوتے۔ ہم ایرانی انقلاب کے بعد سپاہِ پاسداران انقلاب کے ابتدائی سربراہ محمد منتظری کی درگاہ پر حاضری دیتے۔ ہم انقلاب کے ایک زندۂ جاوید کردار آیتہ اللہ سید رضا زنجانی کی قبر پر حاضری دیتے۔ ہم انقلاب کے ایک اور اہم کردارآیتہ اللہ محمدرضا گلپائیگانی کی قبر حاضر ہوتے۔ ہمیں موقع ملتا توہم آیتہ اللہ سیدمحمدجعفرمروج کی قبر پر حاضر ہوتے۔ ہم صرف چند گھنٹوں کیلئے قُم آئے ہیں۔ ہم اُن کرداروں کے آستانوں کی خوشبُو تک نہیں پہنچ سکے جو انقلاب کے ہراول دستے کے طور پر اگلی صفوں میں سامراج اور اس کے آلۂ کار شاہ اور اس کی طاقتور اسٹبلشمنٹ سے لڑ رہے تھے۔ جو فتح کے یقین کے ساتھ آگے بڑھے اور فتح حاصل کی۔
میں انسانی تاریخ کے ہر انقلاب کو اپنا انقلاب اور خود کو انقلاب کا شاگرد سمجھتا ہوں۔ میری سرزمین پر انقلاب ہمیشہ کروٹیں لیتا ہے مگر ہر بار اُسے بھٹکا دیا جاتا ہے۔ لوگوں سے اُن کے خواب چھین لئے جاتے ہیں۔
مجھے قُم میں علی اکبر فیض آلنی علی مشکینی کی قبر پر حاضر نہ ہوسکنے کا ملال ہے جو ڈیڑھ سال قبل فوت ہوئے جو مجلسِ خبرگان رہبری کے چیئرمین تھے۔ ویسے تو یہاں شاہ ناصرالدین قاجار کے وزیراعظم علی اصغرخان بھی دفن ہیں جنہیں بادشاہ نے امین السلطان کا لقب دیا تھا۔ یہاں پر تاریخ کے بڑے اہم کرداروں کی یاد کو محسوس کرنے کیلئے چند گھنٹے تو بہت ہی کم ہیں۔ اب ہمارے دوست اویس ربانی آ چکے ہیں توہم سب کو علی زین نقوی کا انتظار ہے۔ (جاری ہے)

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بڑھانے کی مخالفت کرتا ہوں، حنیف عباسی
افواج پاکستان متحد اکائی ہیں، وزیر اعظم
پاک فوج کے سپاہی ہارون ولیم کی آخری رسومات سینٹ پال چرچ میں ادا کردی گئیں
پنجاب کاقرضہ گندم کی مدمیں صفر ہو جائے گا، عظمٰی بخاری
عازمین حج کی اموات، تیونس کے صدر نے وزیر مذہبی امور کو برطرف کردیا
متحدہ عرب امارات: اسقاط حمل کی مشروط اجازت دینے کی قرارداد منظور
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر