Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

صُفّہ پہاڑ ، قلعۂ شاہ دیج کا محل اور ہماری کوہ پیمائی

Now Reading:

صُفّہ پہاڑ ، قلعۂ شاہ دیج کا محل اور ہماری کوہ پیمائی

چیئر لفٹ میں چھ آدمیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور ہم ایک ایک لفٹ میں تین تین آدمی بیٹھ کر سفر کر رہے ہیں۔ میں ماضی کی طرف رُخ کئے بیٹھا ہوں اور پہاڑ کی چوٹی کی بجائے اصفہان شہر کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہوں۔ میری نظر میں وہ منظر اور لمحے ہیں جو بیت رہے ہیں۔ آنے والے وقت اور منظر کو میں پیٹھ کئے بیٹھا ہوں۔ ان دیکھا مستقبل اگر خیریت کے ساتھ گزرتا جائے تو اچھا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے سامنے علی فاطمی بیٹھے ہیں اور وہ اس طرف کی نشست پر وہ اکیلے ہی بھاری ہیں۔ میں یا منظر نقوی اُن کے ساتھ بیٹھتے تو کیبل کار کا توازن بگڑ جاتا۔ ہم توازن کو برقرار رکھتے ہوئے ہر منظر کو آنکھوں میں سماتے اور سموتے جا رہے ہیں۔ جو لوگ پیدل چلتے ہوئے صُفّہ کی چوٹی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہ کمال کر رہے ہیں۔
میں نے اپنے بچپن میں کراچی سے تربت تک کے پہلے سفر کے دوران پہاڑ کا حُسن لسبیلہ شیر سے آگے بُگاردو پہاڑ کو قدرے دور سے دیکھ کر محسوس کیا تھا۔ ہم کئی خاندان پیدل قسمت آزمائی اور مہم جوئی کیلئے کوہِ سلیمان کے دامن سے نکل کریہاں تک آ پہنچے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم پیدل تربت جائیں گے پھر وہاں سے پیدل گوادر جا کر لانچ میں بیٹھ کر اومان چلے جائیں گے۔ پھر وہاں سے حج کیلئے سفر کریں گے۔ مکہ مدینہ جائیں گے، پھر وہیں کے ہو رہیں گے۔ بلوچستان میں 9 ہزار 570 ناموں کے پہاڑ ہیں۔ تفتان کا پہاڑ سب سے اہم ہے مگر وہ ہمارے سفر کے راستے میں نہیں آتا تھا۔ میرا بچپن اب بھی آواران کے پہاڑ چیشیم کی چوٹی کو سر کرنے کیلئے وہیں کہیں کھو گیا ہے۔ ہم بیلہ سے اوگانی، وہاں سے جھل جاؤ، پھر آگے شانک تک گئے کوئی کچی یا پکی سڑک نہیں تھی بس ایک راستہ تھس جو فطرت نے بنایا تھا۔ ہم اس راستے پر چل کر جا رہے تھے۔ میں آٹھ سال کا تھا، میرا چھوٹا بھائی پانچ سال کا تھا۔ تین سال کی ایک بہن تھی۔ جو اگلے سال بے گھری اور دربدری کے ایک اور سفر میں فوت ہوگئی تھی۔ اس قافلے میں اور بھی بہت سے بچے تھے۔ ماں باپ بھی ساتھ تھے۔ آٹھ دس خاندانوں کے تیس چالیس چھوٹے بڑے نفر پیدل سفر کر رہے تھے۔ بیلہ سے تربت پانچ دن اور پانچ راتیں لگی تھیں۔ وہاں اصل مسئلہ پانی کا ہوتا تھا۔ میں یہ کیا ساٹھ سال پرانے سفر کا قصہ لے کر بیٹھ گیا۔ ہم جھل جاؤ، لک جاؤ، تیتری ، آواران، اور ہوشاب سے ہوتے ہوئے تربت پہنچے تھے اور ایک واقعہ کے سبب تربت سے واپس پیدل کراچی آئے تھے۔ ہم نے اس سفر میں پہاڑ ہی دیکھے تھے۔ پہاڑ سے میرا تعلق میرے جنم سے ہے۔ کوہِ سلیمان اب بھی میرے سینے میں ہے بلوچستان کے پہاڑ بھی میرے وجود میں ہیں۔ پھر زندگی بھر میں پہاڑوں میں پھرتا رہا۔ کبھی میرغوث بخش بزنجو، بزن بزنجو اور حاصل بزنجو سے ملنے نال گیا۔ کبھی نواب اکبر بگٹی سے ملنے دیرہ بگٹی گیا، کبھی چاغی گیا، کبھی دالبندین، کبھی زیارت، کبھی چمن، میں تو چمن سے گزر کر قندھار بھی گیا۔ مگر اب اصفہان میں کوہِ صُفّہ کی چوٹی کی طرف بڑھ رہا ہوں۔ میں اس پہاڑ کا سفر کر رہا ہوں۔ مگر میرا بچپن اب بھی کہیں ہوشاب کے آس پاس کوہِ پارکاتاغ، کوئِ حدیری، کوہِ ہوشاب واد ، کوہِ مراد، مُلائی کوہ اور مکران رینج کے پہاڑوں کی چوٹیوں کی سیر کر رہا ہے۔
کوہِ صُفّہ پر ہم شاہ دیج کا محل نہیں دیکھ سکیں گے۔ مگر اس کی روشنیاں ہمارے سامنے ہوں گی۔ ہماری کیبل کار کی اوسط رفتار تین میٹر فی سیکنڈ ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ چیئرلفٹ اس رفتار سے نہیں چل رہی ہے۔ اس رفتار سے اسے ہمیں ساڑھے چار منٹ میں آٹھ سو میٹر کا سفر کرکے اپنی منزل تک پہنچا دینا چاہیئے تھا۔ ہمیں بہرحال چار منٹ سے زیادہ وقت لگا اور ہم شاہ دیج محل کے قریب اپنے ٹرمینل پر پہنچ کر کیبل سے اُتر گئے۔ شاہ دیج محل سلجوق دور کا ایک قلعہ ہے۔ جہاں ہم اُترے اِسے بھی شاہ دیج ہی کہا جاتا ہے۔ بعض لوگ اس قلعہ کو سلجوق دور سے منسوب کرتے ہیں جبکہ ماہرینِ آثار قدیمہ کا یہ کہنا ہے کہ یہ قلعہ ساسانی دور سے تعلق رکھتا ہے۔ جب تک مورخ، محقق اور ماہرین اس مقام کی تاریخی حیثیت کا تعین کریں، ہم لفٹ سے اُتر کر دائیں جانب کو چل پڑتے ہیں۔
ہمیں کوہِ صُفّہ کی دوسری طرف بھی اتنا ہی بڑا شہر نظر آتا ہے، جتنا بڑا شہر اصفہان ہم دیکھ چکے ہیں۔ مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ دوسری طرف کے اصفہان کا تاریخ جغرافیہ کیا ہے۔ ہمیں شاہ دیج قلعہ کی تاریخ الجھا دیتی ہے کیونکہ یہ ساسانی اور سلجوقوں سے بھی پیچھے کے دور کی نشانیاں بتا رہا ہے۔ اس کی تہہ در تہہ کھدائی مختلف ادوار کی تاریخ بتاتی ہے۔ شاہ دیج محل کی تہذیب کی نشانیاں اسے اسلامی دور سے بھی پہلے کے زمانے میں لے جاتی ہیں۔ یہاں مرکزی قلعے کی کئی دفاعی لہریں ہیں جو مختلف زمانوں کی یاد دلاتی ہیں۔ یہاں پر مختلف ادوار میں ہونے والی ہر پرت کی کھدائی ایک اور ہی دور کی نشانیاں ساتھ لاتی رہی ہے ۔

Advertisement

ہمارے ہاں ایک زمانے میں موہنجودڑو پر ایک فلم کنگ پریسٹ اینڈ ڈانسنگ گرل بنائی گئی تھی۔ یہ فلم بھٹو صاحب کے زمانے نیف ڈیک نے بنائی تھی۔ بعد میں ایسے حکمرانوں کا دور آیا جو اس سرزمین سے زیادہ یہاں پر حملہ کرنے والوں کے عشق میں مبتلا تھے اور انہیں اس سرزمین کو تاراج کرنے والے حملہ آور ہی اچھے لگتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ موہنجودڑو پر بننے والی فلم ڈبوں میں پڑے پڑے گل سڑ گئی۔ اس فلم کا ہیرو فتح شیر خان ہمارا یار تھا۔ وہ اس فلم کے ریلیز ہونے کا انتظار کرتے کرتے اس دنیا سے اُٹھ گیا۔
ہم قلعہ شاہ دیج کے بالکل سامنے پتھروں کی چھوٹی سی چاردیواری میں بنی بنچوں پر بیٹھ کر اصفہان کا نظارہ کرنے لگے۔ کبھی اس چوٹی کی طرف دیکھ لیتے تھے جہاں قلعہ بنایا گیا تھا۔ پیدل چلنے والے لوگ اس چوٹی کی طرف بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ اچانک علی زین نقوی کوہ پیمائی کی تجویز دیتے ہیں۔ اویس ربانی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ منظر نقوی صاف انکار کر دیتے ہیں۔ علی فاطمی اُٹھ کر دوسری جانب کو چل دیتے ہیں۔ چار و ناچار مجھے ان کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ ہمارے پیچھے ایک سنگی فصیل ہے۔ مجھے کوہِ سلیمان کی یاد آتی ہے۔ ہماری بچپن میں فضاء اس قدر صاف تھی کہ ہم 70 کلومیٹر دُور دریائے سندھ کے کناروں سے بھی کوہِ سلیمان کو نہ صرف دیکھ سکتے تھے بلکہ اس کے گھٹتے بڑھتے سائے بھی دیکھ سکتے تھے۔ مگر ہمیں اس وقت اندھیرے میں کوہِ صُفّہ کے قلعۂ دیج کے بالمقابل پہاڑ کو سر کرنا ہے۔ علی زین اور اویس ربانی نوجوان ہیں اور مجھے اُن کا ساتھ دینا ہے۔ ہم چوٹی کی جانب آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہمیں چوٹی سے پہلے کھڑا ایک نوجوان کہتا ہے کہ آگے جان کا رسک ہے کیونکہ رات کے وقت سانپ اور بچھو اپنی بلوں سے باہر نکل آتے ہیں اور ان مہینوں میں سانپ کا ڈسا چند گھنٹے بھی نہیں جی سکتا۔ چنانچہ ہم واپسی کی راہ لیتے ہیں۔ ہم دوستوں کے پاس واپس آکر اپنی مہم کے ادھورا رہ جانے کا سبب بتاتے ہیں۔ وہاں ہم سستانے کیلئے ایک بنچ پر بیٹھے ہیں۔ میرے برابر میں ایک افغانی بیٹھا ہے۔ ہم دونوں اپنی اپنی فارسی دانی کا امتحان لیتے ہیں۔ جب وہ بتاتا ہے کہ وہ افغان مہاجر ہے تو میں پوچھتا ہے کہ کس شہر سے تعلق سے تعلق ہے؟ ہرات سے یا مزار شریف سے؟ وہ کہتا ہے کہ میں غزنی سے ہوں۔ میں نے پوچھا کہ کہیں محمود سے تو تمہاری رشتہ داری تو نہیں؟ وہ کہتا ہے کہ کون محمود، میں تو اُسے نہیں جانتا ۔ چلو شکر ہے کوئی غزنی میں رہنے والا ایسا بھی ہے جو محمود کو نہیں جانتا اور پھر جو محمود کو نہیں جانتا وہ ایاز کو کیا جانتا ہو گا۔
ہم پہاڑ کے جنوب کی سمت دیکھتے ہیں۔ دوسری جانب نظر آنے والی روشنیاں ایک اور عروس البلاد کی خبر دیتے ہیں ۔ رات کے پونے نو بج رہے ہیں۔ ہم پہاڑ سے واپسی کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ ہمارے دوست شاپنگ ایریا کی طرف جانا چاہتے ہیں مگر ان کا آپس میں اتفاق نہیں ہوتا چنانچہ ہم کیبل کار کی طرف چل پڑتے ہیں۔ سارے دوست بھی لفٹ پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اب ہم واپس اپنے ہوٹل کی طرف جارہے ہیں۔ ہوٹل پارسیان عالی قاپو میں رات کا کھانا کھا کر اپنے اپنے کمروں کا رُخ کرتے ہیں۔ ہمیں اگلی صبح سات بجے اصفہان شہر چھوڑ دینا ہے۔ (جاری ہے)

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
سول اسپتال کراچی میں 36 کروڑ روپے مالیت کی کینسر کی دوائیں چوری ہوگئیں
ضلع کرک میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے 5 سیکیورٹی اہلکار شہید
ملک کے معروف برآمد کنندگان کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار
بہتر ہوتا حکومت پیپلزپارٹی سے مشاورت کرکے بجٹ بناتی، بلاول بھٹو
اسٹیشنری آئٹمز پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کی مخالفت، میڈیکل آلات پر ٹیکس چھوٹ کی سفارش
بلوچستان کا نئے مالی سال کا 930 ارب روپے سے زائد کا سرپلس بجٹ پیش
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر