Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

کیا پاکستان کے پسماندہ گروہ اس بار الیکشن میں ووٹ کاسٹ کرینگے؟

Now Reading:

کیا پاکستان کے پسماندہ گروہ اس بار الیکشن میں ووٹ کاسٹ کرینگے؟
عام انتخابات

پاکستان کے آئندہ الیکشنز8  فروری کو ہونے جارہے ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 8 فروری 2024 کو ہونے والے انتخابات کے لیے رجسٹرڈ ووٹرز کے اعدادو شمار جاری کر دیے۔ جس کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 12 کروڑ 85 لاکھ 85 ہزار 760 ہے، مجموعی طور پر مرد ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ 92 لاکھ 63 ہزار 704 ہے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 5 کروڑ 93 لاکھ 22 ہزار 56 مرد ووٹرز کا تناسب 53 اعشاریہ 87 فیصد جبکہ خواتین ووٹرز کی نمائندگی 46 اعشاریہ 13 فیصد ہے.

اسلام آباد میں ووٹرز کی کل تعداد 10 لاکھ 83 ہزار 29 ہے، بلوچستان میں کل 53 لاکھ 71 ہزار 947 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، بلوچستان خواتین ووٹرز کی تعداد 23 لاکھ 55 ہزار 783 جبکہ مرد ووٹرز کی تعداد 30 لاکھ 16 ہزار 164 ہے۔ خیبر پختونخوا میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 19 لاکھ 28 ہزار 119 ہے، کے پی کے میں رجسٹرڈ مرد ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ 19 لاکھ 44 ہزار 397 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 99 لاکھ 83 ہزار 722 ہے۔ سندھ میں ووٹرز کی کل تعداد 2 کروڑ 69 لاکھ 94 ہزار 769 ہے، سندھ میں رجسٹرڈ مرد ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ 46 لاکھ 12 ہزار 655 جب کہ ایک کروڑ 23 لاکھ 82 ہزار 114 خواتین ووٹرز ہیں ۔ پنجاب میں ووٹرز کی کل تعداد 7 کروڑ 32 لاکھ 7ہزار 896 ہے، پنجاب میں رجسٹرڈ مرد ووٹرز کی تعداد 3 کروڑ 91 لاکھ 22 ہزار 82 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 3 کروڑ 40 لاکھ 85 ہزار 814 ہے۔

مگر یہ بھی حقیقت  ہے  کہ پاکستان میں اقتصادی اور سماجی رکاوٹیں پسماندہ گروہوں کی انتخابی عمل میں حصہ لینے کو متاثر کر رہی ہیں۔  دیکھا جائے تو خواتین ووٹرز کی تعداد میں سنہ 2018 کے بعد 26 لاکھ 82 ہزار 60 کا اضافہ ہوا ہے۔  لیکن  اندازے کے مطابق ملک میں سوا کروڑ کے قریب خواتین کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کے ووٹ کا اندراج نہیں ہوسکا ۔

دوسری جانب جب خواتین کے ووٹ کاسٹ کرنے کی باری آتی ہے تو روایتی معاشرتی سوچ اور خاندانی دباؤ کی وجہ سے جن خواتین کے پاس شناختی کارڈ موجود ہے وہ یا تو ووٹ نہیں ڈالتی ہیں یا پھران کو  خاندان کے  سربراہ کا  فیصلہ من وعن تسلیم کرنا پڑتا ہے ۔   گھروں میں کام کرنے والی خواتین ہیں جن کا پس منظر  اکثر کم آمدنی والا طبقہ ہی ہوتا ہے۔  انہیں بھی ووٹ ڈالنے کے حوالے سے  کئی چیلنجز کا سامنا ہے جیسا کہ ووٹر رجسٹریشن تک رسائی کی کمی، نقل و حرکت محدود، یا ووٹ کے لیے کام سے چھٹی لینے میں دشواری شامل ہیں۔

خان بیلہ سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ پروین کئی سالوں سے کراچی میں مقیم ہیں اور مختلف گھروں میں کام کر کے اپنا کفالت کرتی ہیں۔ پروین کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے آبائی علاقے میں تھے تو ووٹ ڈالتے تھے لیکن جب سے وہ کراچی آئے ہیں انہوں نے اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

Advertisement

پروین کے مطابق ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی کراچی میں رہتے ہیں اور یہی کام کرتے ہیں۔ ان کا ووٹ آبائی علاقے میں شامل ہے اس لیے وہ یہاں اپنا ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔

کراچی کے علاقے بھٹائی آباد کی رہائشی کریمن کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ چار سال سے گھروں میں کام کر رہی ہیں، ان کا ووٹ رجسٹرڈ نہیں ہے، اس نے کبھی الیکشن میں حصہ نہیں لیا، ان کے خاندان کے دیگر افراد ووٹ ڈالتے ہیں۔  کریمن کے مطابق وہ ووٹ کی اہمیت نہیں جانتے۔ان کی پہلی ترجیح زندگی کا گذر بسر ہے۔

بقول کریمن کہ آج تک کسی نے اس بات پر توجہ ہی نہیں دلائی کہ ووٹ ڈالنا لازمی ہے یا اس کی کوئی خاص اہمیت ہے، اس لیے انہوں نے ووٹ ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

الیکشن ایکٹ 2017 ء میں خواتین کو انتخابی عمل میں شامل کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

سیکشن 47 کے تحت الیکشن کمیشن پابند ہے کہ خواتین کے ووٹ رجسٹر کروانے میں خصوصی اقدامات کرے۔ سیکشن 170(A) کے مطابق الیکشن میں کسی کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ سیکشن 206 کے مطابق الیکشن میں ہر سیاسی جماعت کو 5 فیصد ٹکٹ خواتین کو دینے کا پابند کیا گیا، اسی طرح سیکشن 9 کے مطابق جن حلقوں میں 10 فیصد سے کم خواتین کے ووٹ کاسٹ ہونگے، وہاں الیکشن کالعدم قرار دیا جائے گا

Advertisement

سینئر صحافی شاہ زمان کا کہنا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے اس بات کی اہمیت بتائی ہے کہ پسماندہ خواتین کے ووٹ کی اہمیت ہے، لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں ووٹ سے کچھ بدلنے والا نہیں ہے، یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے، پسماندہ خواتین کے ووٹ کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کسی عالم یا فاضل کے ووٹ کی ہے۔

گھریلو ملازماؤں کا تعلق بھی پسماندہ طبقے سے ہے، ہم نے انہیں شعور سے الگ رکھا ہو ہے، لیکن جس تیزی سے شعور آگے بڑھ رہا ہے ان لوگوں تک بھی معلومات پہنچ رہی ہے، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اُنہیں احساس دلانا ہوگا کہ ان کے ووٹ سے فرق پڑتا ہے.

شاہ زمان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن، حکومت اور معاشرے کے تمام ایسے افراد جو شعور رکھتے ہیں ان کی ذمیداری ہے کہ وہ پسماندہ لوگوں کو ووٹ کی اہمیت کا احساس دلائیں اور ان کے ووٹ کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں ان کے ووٹ سے کچھ بدلنے والا نہیں ہے، اس صورتحال میں لوگوں میں ووٹ کی اہمیت بتانی کی سخت ضرورت ہے۔۔

الیکشن میں زیادہ سے زیادہ شمولیت کو فروغ دینے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ تمام شہری، بشمول خواتین ہاؤس ورکرز، اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے قابل ہیں۔

یہ ضروری ہے کہ ایسی پالیسیوں اور طریقوں کی وکالت کی جائے جو شرکت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر کسی کو اپنے حق رائے دہی کے استعمال کا مساوی موقع ملے۔

Advertisement

جمہوری عمل میں اس بات پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ ووٹر رجسٹریشن تک زیادہ سے زیادہ رسائی کی فراہمی کی جائے، غیر حاضر ووٹنگ کے لیے میکانزم قائم کیا جائے، اور معاشرے کے تمام اراکین کے لیے سیاسی شرکت کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کی جائے۔

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
ثنااللہ مستی خیل پر بجٹ سیشن کے دوران ایوان میں داخلے پر پابندی عائد
ہم نے اپنے اداروں کو مستحکم کرنے کے بجائے غیرضروری بھرتیاں کیں، مرتضٰی وہاب
ثنااللہ مستی خیل کے غیراخلاقی لفظ کیخلاف حکومتی ارکان کا اسپیکرڈائس کے سامنے احتجاج
سپریم کورٹ محمد زبیر کے انٹرویو کا ازخود نوٹس لے، رؤف حسن
تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بڑھانے کی مخالفت کرتا ہوں، حنیف عباسی
افواج پاکستان متحد اکائی ہیں، وزیر اعظم
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر