Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

مردوں کی غیرت اور انا کی وجہ سے خواتین ووٹ کے بنیادی حق سے محروم

Now Reading:

مردوں کی غیرت اور انا کی وجہ سے خواتین ووٹ کے بنیادی حق سے محروم

مردوں کو اس وقت خواتین کی عزت کا خیال کیوں نہیں آتا جب وہ خود گھروں میں رہ کر خواتین کو نوکریوں پر بھیجتے ہیں، تب ان کی غیرت کہاں مر جاتی ہے جب علاقے میں چھوٹے چھوٹے مسائل کے لیے ان کی فیملی کو دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں؟ یہ کہنا ہے کراچی کے حلقہ این اے 237 ملیر کی رہائشی خاتون مریم بی بی (فرضی نام) کا، جو گزشتہ کئی انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کرسکیں۔

مریم بی بی نے مجھے بتایا کہ وہ بھی دیگر خواتین کی طرح انتخابات میں ووٹ کاسٹ کرنا چاہتی ہیں لیکن انہیں اپنے شوہر سے اجازت نہیں ملتی اور اگر وہ چھپ کر ووٹ کاسٹ کرنے چلی جائیں تو  ان کے لیے مصیبت بن جاتی ہے ۔

انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے ضمنی انتخاب کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر چیئرمین پی ٹی آئی کو بہت پسند کرتی ہیں اور اس لیے جب یہ پتہ چلا کہ وہ ہمارے حلقہ سے ضمنی انتخاب لڑرہے ہیں تو میں نے فیصلہ کیا کہ ہر حال میں ووٹ ڈالوں گی ۔ بعد ازاں میں اپنے شوہر سے چھپ کر کسی طرح ووٹ ڈالنے میں کامیاب بھی ہوگئی لیکن بدقسمتی سے چیئرمین پی ٹی آئی باقی نشستیں تو جیت گئے لیکن یہاں انہیں شکست ہوگئی۔

مریم بی بی نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے لیے کام کرنے والی مختلف این جی اوز کو اس حوالے سے آواز اٹھانی چاہیے اور خود الیکشن کمیشن کو بھی ایسا لائحہ عمل بنانا چاہیے جس کے تحت خواتین کے ووٹ کے بغیر کسی بھی حلقہ کے انتخابات قابل قبول نہ ہوں، چونکہ ہم تو اپنے شوہر، والد یا بھائی کی وجہ سے مجبوری میں ووٹ ڈالنے نہیں جاسکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا کوئی میکنزم بن جائے جس میں تمام خواتین آسانی سے ووٹ کاسٹ کرسکیں تو انتخابات مزید موثر ہوجائیں گے، چونکہ ہم نے اپنے ووٹوں سے کسی بھی جماعت کے نمائندہ کو منتخب کیا ہوگا تو بعد میں ہمیں یہ شکوہ بھی نہیں ہوگا کہ فلاں حکمران ہمارے لیے کچھ نہیں کرسکا۔

Advertisement

خواتین کے ووٹ کاسٹ کرنے کے شرعی احکامات سے متعلق جمیت علمائے اسلام ضلع ملیر کے جنرل سیکریٹری مولانا اجمل شاہ شیرازی نے بتایا کہ اسلام نے خواتین کو ووٹ دینے کا پورا حق دیا ہے اور نہ صرف مردوں بلکہ عورتوں پر لازم ہے کہ وہ ووٹ کا حق ادا کریں کیوں کہ یہ ان کی شرعی ذمہ داری ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ووٹ سے متعلق سابق مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع عثمانی (مرحوم) کہا کرتے تھے کہ ووٹ ایک امانت ہے لہذا ہر مرد وعورت کو چاہیے کہ اسے امانت سمجھ کر جسے وہ بہتر سمجھتے ہیں، واپس کریں اور ساتھ ہی یہ گواہی بھی ہے، جو وہ اپنے ووٹ کے ذریعے دیتے ہیں کہ فلاں شخص اس علاقے، ملک اور قوم کے لیے بہتر ہے جب کہ یہ سفارش بھی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے اس شخص کے حق میں سفارش کرتے ہیں تاکہ وہ عوام کے حق میں بہترین فیصلے کرسکیں۔

مولانا اجمل شاہ شیرازی کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں مرد حضرات اسلام اور شریعت کا نام استعمال کرکے خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکتے ہیں جو  سراسر جہالت ہے کیوں کہ شریعت میں عورت کے ووٹ کی ممانعت نہیں ہے بلکہ دین تو کہتا ہے کہ حق دار کو اس کا حق وقت پر ادا کیا جائے۔

انہوں نے اپنے حلقے میں تمام سیاسی جماعتوں سے درخواست کی کہ وہ خواتین کے ووٹ کے حوالے سے ایک ضابطہ اخلاق بنائیں اور تمام نامزد امیدوار ایسا ماحول بنائیں جس میں خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو، نیز ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ بھی مردوں کی طرح کسی رکاوٹ کے بغیر گھروں سے نکل کر ووٹ کاسٹ کرسکیں۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن  آف پاکستان کے بنائے گئے قانون کے تحت ملک میں ہونے والے انتخابات کے کسی بھی حلقہ میں کاسٹ کیے گئے ووٹوں میں اگر خواتین کے ووٹوں کا تناسب 10 فیصد نہ ہوا تو وہ نتائج قبول نہیں کیے جائیں گے۔

عورت فاؤنڈیشن  کی صوبائی پروگرام مینجر ملکا خان نے مردوں کی جانب سے خواتین پر ووٹ کاسٹ کرنے کی پابندی سے متعلق کہا کہ  ہم نے دیکھا ہے کہ کراچی جیسے شہر میں بھی زیادہ تر پشتون فیملیز اپنے گھر کی عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے روکتی ہیں لیکن وہ مخصوص گھر ہوتے ہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ کراچی کے کسی علاقے میں پوری کمیونٹی کی خواتین ووٹ کاسٹ کرنے گھر سے نہ نکلی ہوں ۔

Advertisement

انہوں نے سیاسی جماعتوں کی جانب سے بائیکاٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ہم نے دیکھا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تو ایسے میں ان کی حمایت یافتہ فیملیز ووٹ ڈالنے نہیں گئیں لیکن ایسا نہیں تھا کہ مردوں نے تو ووٹ کاسٹ کیا مگر خواتین گھروں سے نہیں نکلیں۔ اس کے علاوہ کراچی میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے، جہاں قبائلی اضلاع کی طرح پوری  کمیونٹی نے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا ہو۔

ملکا خان نے  کہا کہ عورت فاؤنڈیشن نے ماضی میں انتخابی مہم کے دوران پشتون کمیونٹی کو آگاہی دینے کی کوشش کی تو ان کی مردوں کی جانب سے کہا گیا کہ ہمارے عورتیں گھروں سے نہیں نکلتیں جس پر ہم نے انہیں سمجھایا کہ ایسے تو آپ کے ووٹ کاسٹ کرنے کا بھی فائدہ نہیں کیوں کہ آپ جس جماعت کو سپورٹ کررہے ہیں، ان کے ووٹ ہی کم ہورہے ہیں جب کہ مخالف امیدوار کو خواتین کے بڑی تعداد میں ووٹ مل جائیں اور پھر اگلے دن الیکشن میں ہم نے دیکھا کہ پشتون کمیونٹی کی خواتین سب سے آگے تھیں۔

ووٹ کاسٹ کرتے وقت خواتین کے پردے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ بے پردگی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیوں کہ زیادہ تر عورتوں کا پولنگ بوتھ الگ ہوتا ہے اور  وہاں تمام انتظامات ہوتے ہیں۔

پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر میں کی گئی حالیہ حلقہ بندیوں کے نتیجے میں جو نتائج جاری کیےگئے ہیں ان کے مطابق ملک میں تقریباً 2 کروڑ نئے ووٹرز رجسٹرڈ ہوئے ہیں جن میں تقریباً آدھی تعداد خواتین کی ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق 2018 میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 تھی اور اب یہ تعداد 12 کروڑ، 69 لاکھ 80 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس فہرست میں مرد ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ 85 لاکھ 8 ہزار258 ہے اور خواتین ووٹرز کی تعداد 5 کروڑ 84 لاکھ 72 ہزار 14 ہے۔

الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ 23 لاکھ 10 ہزار 582 ہے اور سندھ میں ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 66 لاکھ 51 ہزار 161 ہے۔ خیبر پختونخوا میں ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 16 لاکھ 92 ہزار 381 ہے، بلوچستان میں ووٹرز کی تعداد 52 لاکھ 84 ہزار 594 ہے، اسلام آباد میں ووٹرز کی تعداد 10 لاکھ 41 ہزار 554 ہے۔

Advertisement

الیکشن کمیشن کے مطابق ملک میں 18 سے 35 سال عمر کے ووٹرز کی تعداد 5 کروڑ 70 لاکھ 95 ہزار 197 ہے، 36 سے 45 سال کے ووٹرز کی کل تعداد 2 کروڑ 77 لاکھ 94 ہزار 708 ہے، 46 سے 55 سال عمر کے ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 81 لاکھ 24 ہزار 28 ہے، 56 سے 65 سال کے ووٹرز کی مجموعی تعداد 1 کروڑ 18 لاکھ 89 ہزار 259 ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ملک میں 66 سال سے زائد عمر والے ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 20 لاکھ 77 ہزار 80 ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے ابتدائی حلقہ بندیوں کے نتائج جاری کے مطابق نئی حلقہ بندیوں میں کراچی کے قومی اسمبلی حلقوں کے نمبرز تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی میں صوبائی اسمبلی کی 3 جبکہ قومی اسمبلی کی 1 نشست میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔  2018 کے عام انتخابات میں کراچی کا پہلا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 236 (ملیر1) تھا جو اب این اے 229 (ملیر1) بن گیا ہے، اسی طرح ابتدائی حلقہ بندیوں کے مطابق ضلع ملیر 229، 230 اور این اے 231 پر مشتمل ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 2018 کے عام انتخابات میں این اے 237 کی آبادی 6 لاکھ 73 ہزار 678 تھی  اور رجسٹرڈ ووٹرز 2 لاکھ 83 ہزار 882 تھے، جن میں مرد ووٹرز ایک لاکھ 62 ہزار 495 اور خواتین ووٹرز ایک لاکھ 21 ہزار 387 شامل تھے۔ جب کہ نئی حلقہ بندیوں کے ابتدائی نتائج کے مطابق اب اس حلقہ (این اے 230) کی آبادی 7 لاکھ 86 ہزار 160 ہوگئی ہے۔

کراچی کے حلقہ این اے 237 ضلع ملیر کے ووٹر خیرا اللہ (فرضی نام) کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقے باجوڑ (سابقہ فاٹا) سے ہے اور وہ گزشتہ 40 سالوں سے کراچی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔

میرے پوچھنے پر خیرا اللہ نے بتایا کہ ہمارے پورےخاندان کے ووٹ کراچی میں ہی ہیں لیکن ہمارے تمام مرد باقاعدگی سے قومی، صوبائی، ضمنی اور بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالتے ہیں لیکن ہمارے گھر کی خواتین نے آج تک ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

میرے اصرار پر انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ جناب آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کون کس طرح منتخب ہوکر آتا ہے، ایسے میں کسی کے ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا ، یہ بس ایک رسمی کارروائی ہوتی ہے اور پس پردہ کون کیا کرتا ہے یہ اب سب بخوبی جانتے ہیں۔

Advertisement

خیرا اللہ نے اپنے گھر کی خواتین کو ووٹ کے بنیادی حق سے محروم رکھنے پر مجھے بتایا کہ چونکہ ہمارے قبائلی علاقوں میں خواتین زیادہ تر گھر کی چار دیواری تک ہی محدود رہتی ہیں اور شہر میں آنے کے باوجود ہماری ثقافت میں تبدیلی نہیں آئی کیوں کہ ہم لوگ خواتین کا گھروں سے باہر نکلنے کو اچھا نہیں سمجھتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنے گھر کی خواتین کو پولنگ اسٹیشن نہ بھیجنے کی ایک اور وجہ وہاں پر بہتر انتظامات نہ ہونا بھی ہے، اکثر ہم نے دیکھا ہے کہ ووٹ کاسٹ کرنے کے دوران خواتین کے ساتھ دھکم پیل اور بدتمیزی بھی ہورہی ہوتی ہے، چونکہ ہم یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اس لیے ہمارا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ اپنے گھر کی خواتین کو ایسے ماحول میں بھیجیں۔

الیکشن کمیشن سندھ کے پی آر او نبیل ابڑو نے مجھے بتایا کہ جن حلقوں میں خواتین کے ووٹ 10 فیصد سے کم کاسٹ ہوں گے، اس کے لیے الیکشن کمیشن نے واضح طور پر یہ کہا ہے کہ وہاں کا انتخاب تسلیم نہیں کیا جائے گا تاہم کراچی کے مخصوص حلقوں میں ہمیں ایسی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں جہاں مرد حضرات اپنے گھر کی خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکتے ہیں، اس کے لیے الیکشن کمیشن کی صوبائی سطح پر مختلف کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں جو وقتاً فوقتاً آگاہی مہم چلاتی رہتی ہیں اور اس کے لیے ہم اسکول ، کالجز ، یونیورسٹیز میں طلبہ اور طالبات سے بات چیت کرتے ہیں۔

خواتین کو ووٹ دینے کی اجازت نہ دینے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پشتون کمیونٹی سمیت ہمارے نمائندے ان تمام علاقوں کا دورہ کرتے ہیں جہاں ہمیں اس قسم کی شکایات موصول ہوتی ہیں اور وہاں ہم نہ صرف ان مردوں بلکہ خواتین کو بھی آگاہی دینے کی کوشش کرتے ہیں جس کے اچھے نتائج موصول ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ وہ خواتین کے لیے الگ پولنگ بوتھ قائم کریں اور خواتین کے پردے اور سیکیورٹی سے متعلق ہر قسم کے انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں۔

خیبرپخونخوا کے علاقہ مہمند ایجنسی (سابق فاٹا) سے تعلق رکھنے والے کراچی کے حلقہ این اے 237 ملیر کے رہائشی بخت منیر (فرضی نام)  گزشتہ 35 سال سے کراچی میں مقیم ہیں لیکن ان کا ووٹ اپنے آبائی علاقے میں ہی رجسرڈ ہے۔

Advertisement

کراچی میں رہائش کے باوجود ووٹ یہاں منتقل نہ کرنے کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ وہ ہر انتخابات میں صرف ووٹ کاسٹ کرنے اپنے آبائی علاقے جاتے ہیں کیوں کہ وہ ان کا تعلق ایک سیاسی خاندان سے ہے لہذا ہمارے آبائی گاؤں میں ایک ووٹ بھی قیمتی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں میرے کزن کو صرف 10 ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

خواتین کے ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ بالکل خواتین کو ووٹ ڈالنا چاہیے لیکن بدقسمتی سے یہاں پر اس طرح کے انتظامات نہیں کیے جاتے جس ماحول میں خواتین کی پرائیوسی یا پھر پردہ قائم رہتے ہوئے وہ اپنا بنیادی حق ادا کرسکیں۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف قبائلی اضلاع اور یہاں تک کہ اندرون سندھ اور پنجاب کے دیہی علاقوں میں بھی عورت کے ووٹ ڈالنے پر پابندی لگائی جاتی ہے اور اس کام کے لیے اس حلقہ کی تمام سیاسی جماعتیں متفق بھی ہوجاتی ہیں لیکن ہمارے آبائی حلقہ میں آپ کو ایک مختلف مثال ملے گی۔

بخت منیر کا کہنا تھا کہ ہمارے آبائی علاقے میں انتخابات کے دوران ایک عورت بھی گھر میں نہیں بیٹھتی اور سب ووٹ کاسٹ کرنے جاتی ہیں لیکن ان کے لیے باقاعدہ پردے کا ماحول بنایا جاتا ہے اور ہر عورت کو گھر سے پردے میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے لے جایا جاتا ہے، جس کی ذمہ داری کا تعین اس حلقہ سے انتخاب لڑنے والے تمام امیدوار انتخاب سے پہلے ہی ملکر کرلیتے ہیں۔

ملیر کے اسی حلقہ سے پیپلزپارٹی کے سابق ایم پی اے راجا رزاق کا موقف حاصل کرنے کے لیے ان سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
آزادی مارچ ہنگامہ آرائی کیس: بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود اور شیخ رشید مقدمے سے بری
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: نیوزی لینڈ کو شکست، ویسٹ انڈیز کی سپر ایٹ میں رسائی
کراچی کا موسم آج بھی گرم اور مرطوب رہنے کا امکان
چیئرمین جوائنٹس چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد کا ترکیہ کا سرکاری دورہ
غیر منقولہ جائیداد پر 5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے، چیئرمین ایف بی آر
سعودی عرب میں عازمین حج کی آمدورفت کے لیے فلائنگ ٹیکسی کا آغاز
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر