اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ تخمینوں کے لیے 290 روپے فی ڈالر کی شرح مبادلہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے مالی سال میں روپے کی قدر میں تقریباً 3.5 فیصد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ غیر ملکی قرضوں اور گرانٹس کے تخمینے، دفاعی خریداریوں اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے بھی 290 روپے فی ڈالر کی شرح مبادلہ استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینے 280 روپے فی ڈالر کی بنیاد پر تیار کیے گئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ کا تخمینہ 2.66 ٹریلین روپے لگایا ہے تاہم موجودہ سرحدی صورتحال کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مجموعی طور پر 3.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ قومی ترقیاتی بجٹ کا تقریباً 22 فیصد حصہ غیر ملکی قرضوں پر مشتمل ہوگا۔
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران 267 ارب روپے مالیت کے غیر ملکی پراجیکٹ قرضوں کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ چاروں صوبوں نے مجموعی طور پر 660 ارب روپے کے بیرونی قرضوں کی منصوبہ بندی کی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کا تخمینہ 21.2 ارب ڈالر لگایا ہے جبکہ مالی سال 2027-28 میں یہ ضروریات بڑھ کر 30 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم کو بیرونی مالی ضروریات کی تکمیل کے حوالے سے یقین دہانی بھی کرا دی گئی ہے۔
آئندہ مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.6 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے جبکہ بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 1.1 ٹریلین روپے تک پہنچ سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق قرضوں کی سروسنگ کے لیے مجموعی طور پر 7.8 ٹریلین روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا جبکہ مستحکم شرح مبادلہ مالی منصوبہ بندی، بجٹ سازی اور اقتصادی اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگی۔


















