Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آئی ایم ایف کا دباؤ برقرار، بجٹ میں ٹیکس رعایتوں کے خاتمے اور سخت مالی فیصلوں کا امکان

ہائبرڈ گاڑیوں پر رعایتی ٹیکس کی مدت بھی آئندہ مالی سال کے اختتام پر ختم ہونے کا امکان ہے

آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے تحت ٹیکس رعایتوں میں نمایاں کمی اور مختلف شعبوں میں استثنیٰ ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ بجٹ میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور محصولات بڑھانے کے لیے موجودہ رعایتوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے جس پر حکومتی سطح پر مختلف آپشنز پر غور جاری ہے۔

مجوزہ منصوبے کے تحت فاٹا اور پاٹا کے لیے ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 کے بعد ختم کیے جانے کا امکان ہے جبکہ یکم جولائی 2026 سے ان علاقوں میں عام ٹیکس قوانین نافذ ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ود ہولڈنگ ٹیکس اور دیگر رعایتی سہولیات بھی ختم کیے جانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے اور درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مزید برآں الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی (CKD) کٹس پر دی جانے والی سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاہم مقامی طور پر تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت 30 جون 2026 تک برقرار رہے گی۔

اسی طرح ہائبرڈ گاڑیوں پر رعایتی ٹیکس کی مدت بھی آئندہ مالی سال کے اختتام پر ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ بجلی کی فراہمی اور بعض مقامی صنعتوں سے متعلق موجودہ ٹیکس چھوٹ بھی ختم کی جا سکتی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق بجٹ 2026-27 میں مختلف شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس مراعات کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اضافی آمدنی حاصل کی جا سکے اور مالی خسارے کو کم کیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ٹیکس اصلاحات پر مجموعی طور پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور آنے والے بجٹ میں سخت مالی فیصلوں کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں