اسلام آباد: حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4 فیصد مقرر کر دی ہے۔ سالانہ پلان کے مطابق زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد جبکہ صنعتی شعبے کی شرح نمو 4.5 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ سرمایہ کاری کا ہدف جی ڈی پی کے 15 فیصد کے برابر رکھا گیا ہے۔
حکومت نے برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر مقرر کیا ہے جبکہ خدمات کی برآمدات 11 ارب 30 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ درآمدات کا حجم 70 ارب ڈالر اور ترسیلاتِ زر کا ہدف 42 ارب 40 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔
سالانہ پلان میں متعدد اہم ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 26 ارب روپے، داسو پاور پراجیکٹ کے لیے 21 ارب روپے اور کراچی بلک واٹر سپلائی منصوبے کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں دانش اسکولز کے لیے 22 ارب روپے جبکہ وزیراعظم ہیلتھ پروگرام کے لیے 3 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق ایم ایل ون ریلوے منصوبے کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سندھ کوسٹل ہائی وے کے لیے 25 ارب اور مہران ہائی وے کے لیے 21 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
آئی ٹی شعبے کی ترقی کے لیے حکومت نے آئندہ مالی سال میں آئی ٹی برآمدات کا ہدف 7 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کیا ہے۔ سالانہ پلان کے مطابق آئی ٹی سیکٹر میں 7,500 نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کیے جائیں گے۔




















