وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 26-2025 کا اقتصادی سروے باقاعدہ طور پر پیش کر دیا ہے جس کے مطابق اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود پاکستانی معیشت نے استحکام کی جانب پیش رفت کی اور متعدد اہم شعبوں میں مثبت نتائج سامنے آئے جبکہ بعض بنیادی شعبوں میں کمزوریاں بھی برقرار رہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2025-26 کا اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ملکی معیشت کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی جبکہ حکومت کو امید تھی کہ یہ شرح 4 فیصد سے تجاوز کر جائے گی۔ پاکستان کی معیشت کا حجم بڑھ کر 452 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صنعتی اور خدمات کے شعبوں میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ بڑی صنعتوں سمیت مینوفیکچرنگ کے 22 میں سے 16 شعبوں نے مثبت کارکردگی دکھائی جبکہ خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.9 فیصد رہی۔ سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد اور کھاد کی کھپت میں 17 فیصد اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال بہتر رہی، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا اور رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 33 ارب ڈالر سے زائد رقوم وطن بھیجیں۔ ترسیلات زر میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے تحت سرمایہ کاری 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
انکا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور توقع ہے کہ جون کے اختتام تک یہ 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے اسی طرح ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک محدود رہا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ زرعی شعبہ توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکا اور اس کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی۔ مجموعی برآمدات میں بھی کمی دیکھی گئی جس کی ایک بڑی وجہ چاول اور چینی کی برآمدات میں کمی بتائی گئی ہے۔
انہون نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران افراطِ زر میں بتدریج کمی آئی ہے تاہم عام شہری اب بھی مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں کے اثرات محسوس کر رہے ہیں، اوسط مہنگائی کی شرح 6.7 فیصد رہی جبکہ ملکی قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے تقریباً 68.5 فیصد کے برابر ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بتایا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔ پاکستان کو برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی پر توجہ دینا ہوگی تاکہ معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر وطن بھیجتے ہیں جبکہ ملک کو برآمدات اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔
احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے معیشت کو مستقل بنیادوں پر مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔



















