دنیائے موسیقی کے بادشاہ استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 بیت گئے تاہم ان کی آواز وانداز آج بھی دلوں میں زندہ ہے۔
استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد کے ایک قوال گھرانے میں پیدا ہوئے، 16 سال کی عمر میں قوالی کا فن سیکھا، قوالی کے ساتھ غزلیں، کلاسیکل اور صوفی گیت بھی گائے۔
عظیم صوفی قوال نصرت فتح علی خان کی آواز میں ایسی روحانیت، اورسوز تھا کہ سننے والوں پر ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہوجاتی۔ یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے”، “دم مست قلندر” اور “اللہ ہو” جیسی لا زوال قوالیوں نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا، ان کی قوالیاں نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت سمیت دنیا بھر میں مقبول ہیں۔
نصرت فتح علی خان نے فن قوالی کو نئی جہت سے روشناس کرایا، اپنے منفرد انداز گائیکی سے عالمگیر شہرت حاصل کی قوالی کے 125 البم ریکارڈ کروانے پر گنیز بک میں نام بھی درج کرایا۔
استاد نصرت فتح علی خان گردوں کے عارضہ کے سبب 49 برس کی عمر میں 16 اگست 1997ء کوانتقال کر گئے تاہم اپنی منفرد آواز اور موسیقی کی بدولت عظیم صوفی قوال آج بھی مداحوں کے دلوں پر حکمرانی کر رہے ہیں۔















