اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی المناک ہلاکت پر ملک بھر میں غم و غصے کی فضا ہے جبکہ پاکستانی شوبز شخصیات نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اداکار عثمان مختار کی اہلیہ زنیرا انعام نے نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ مبینہ غفلت کے ذمہ داروں کا احتساب کب ہوگا؟
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں یہ سانحہ بھی چند روز بعد عوامی یادداشت سے محو نہ ہوجائے۔
View this post on Instagram
سینئر اداکار محمد احمد نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سانحے کے ذمہ دار افراد کا تعین کرکے انہیں جوابدہ بنایا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔
View this post on Instagram
میزبان مدیحہ نقوی نے متاثرہ خاندانوں خصوصاً ماؤں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے لیے صبر کی دعا کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ غمزدہ خاندانوں کو اس ناقابلِ تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔
View this post on Instagram
شوبز شخصیات کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل میں ملکی نظام پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ سوشل میڈیا پر یہ مؤقف سامنے آیا کہ ایسے افسوسناک سانحات کے بعد چند روز تک مذمت اور افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ واقعات کو بھلا دیا جاتا ہے اور مؤثر اقدامات نہیں ہوپاتے۔
واضح رہے کہ بدھ کی صبح پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جہاں نومولود بچے زیرِ علاج تھے۔
View this post on Instagram
حکام کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے جبکہ ایک بچے کو بحفاظت بچا لیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا حکم دے دیا ہے۔
















