پاکستان کی 40 فیصد سے زائد آبادی موٹاپے کا شکار ہے یہی وجہ ہے کہ موٹاپا کم کرنے یا تیزی سے وزن گھٹانے کے لیے انجکشنز کے استعمال کا رحجان بڑھنے لگا ہے۔
میمن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ ہاسپٹل میں شعبہ اینڈوکرنولوجی کے سربراہ ڈاکٹر ندیم نعیم کا کہنا ہے کہ سیما گلوٹائیڈ، ٹرزاپاتائیڈ جیسے انجکشنز تیزی سے وزن گھٹانے میں مدد فراہم کرتے ہیں یہ انجکشنزجی ایل پی ون نامی ہارمون پر مشتمل ہوتے ہیں یہ ہارمون انسانی جسم میں تیزی سے شوگر کی مقدار کو کم کرتا ہے ہر ہفتے اس انجکشن کے استعمال سے جی ایل پی 1 ہارمون سرگرم رہتا ہے جسم کی اضافی چربی و شوگر کو کنٹرول کرتا ہے، جس سے تیزی سے وزن گھٹتا ہے۔
ان کے مطابق ان انجیکشنز کی قیمت 1200 سے 5 ہزار روپے تک ہے جبکہ ان کا استعمال 12 سال تا 70 سال تک موٹاپے کے شکار افراد میں موضوع ہے تاہم وزن کم کرنے کے لیے ڈائٹ، اور ایکسرسائز پر مشتمل مکمل پلان ضروری ہے۔
ڈاکٹر ندیم نعیم نے بتایا کہ میرے کلینک میں 5 ہزار افراد وزن کم کے لیے انجیکشن استعمال کرچکے ہیں زائد مقدار میں پروٹین، فائبر اور پانی کے استعمال سے انجکشن کے مضر اثرات سے سے بچا جا سکتا ہے ہر فرد کی عمر وزن اور طبی صورتحال کے مطابق ڈائٹ پلان ترتیب دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزن کم کرنے والے انجیکشنز کا استعمال ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے بغیر طبی مشورے کے وزن کم کرنے والے انجیکشنز کا استعمال خطرناک ہوسکتا ہے وزن کم کرنے والی ادویات کے استعمال سے متلی، قے، قبض اور اسہال جیسے مضر اثرات ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر ندیم نعیم نے مزید کہا کہ انجیکشن استعمال کرنے والوں کی عمریں 12 سے 70 سال تک ہیں موٹاپے کے علاج میں انجیکشن کے ساتھ طرز زندگی میں تبدیلی ضروری ہے۔



















