اووریز (بیضہ دانی) خواتین کے تولیدی نظام کا ایک انتہائی اہم ترین عضو ہے جس کا کام انڈے پیدا کرنا اور ہارمونز (جیسے ایسٹروجن) بنانا ہے تاہم مینوپاز کے بعد یہ خیال کیا جاتا ہے اووریز (بیضہ دانی) غیر فعال ہوجاتی ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔]
بیضہ دانیاں اووریز انسانی جسم کے ان اعضاء میں شامل ہیں جو سب سے پہلے عمر رسیدگی کا شکار ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے خواتین کی عمر بڑھتی ہیں اووریز میں موجود انڈوں پر مشتمل فولیکلز کی تعداد آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ مینوپاز کے وقت صرف تقریباً ایک ہزار فولیکلز باقی رہ جاتے ہیں۔
اگرچہ آج انسان پہلے کی نسبت زیادہ عرصہ زندہ رہتا ہے لیکن مینوپاز کی اوسط عمر تقریباً وہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین اپنی تولیدی عمر ختم ہونے کے بعد بھی کئی دہائیاں زندہ رہتی ہیں مگر اب تک یہ واضح نہیں تھا کہ اس عرصے میں بیضہ دانیوں کا کیا کردار رہ جاتا ہے۔
کئی برسوں تک سائنس دانوں کا خیال تھا کہ جب فولیکلز ختم ہو جاتے ہیں تو بیضہ دانیاں اپنا کام مکمل کر کے تقریباً غیر فعال ہو جاتی ہیں۔
لیکن امریکہ کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی نئی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مینوپاز کے بعد بیضہ دانیاں خاموش نہیں ہوتیں بلکہ ان کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آتی ہے، اور وہ مدافعتی نظام سے ملتا جلتا کردار اختیار کر لیتی ہیں جو جسم کے بڑھاپے کے عمل پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے محققین نے چوہیوں کی بیضہ دانیوں کی زندگی کے تین مختلف مراحل جیسے تولیدی طور پر جوان (2 ماہ)، عمر رسیدہ مگر تولیدی صلاحیت رکھنے والی (18 ماہ) اور مینوپاز کے بعد کی حالت (24 ماہ) کا مطالعہ کیا۔
محققین کے مطابق مینوپاز کے بعد چوہیوں کی بیضہ دانیاں اپنی تولیدی شناخت مکمل طور پر کھو دیتی ہیں اور ایک سوزش پیدا کرنے والے، مدافعتی عضو کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔”
تحقیق میں جدید حیاتیاتی تکنیکوں کی مدد سے یہ معلوم کیا گیا کہ جب فولیکلز مکمل طور پر ختم ہو جاتے ہیں تو بیضہ دانی کے اندر کون سے حیاتیاتی عمل جاری رہتے ہیں۔
جوان چوہیوں کی بیضہ دانیاں مختلف مراحل میں نشوونما پانے والے فولیکلز سے بھری ہوئی تھیں، جبکہ ان میں کارپس لیوٹیم بھی بڑی تعداد میں موجود تھا، جو بیضہ خارج ہونے اور ماہواری کے معمول کے چکر کی علامت ہوتا ہے۔
عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ فولیکلز کی تعداد کم ہوئی، بافتوں کی ساخت تبدیل ہوئی اور کولیجن میں اضافہ دیکھا گیا، جو عمر رسیدگی کی عام علامات ہیں۔
لیکن جینیاتی تجزیے نے ایک غیر متوقع حقیقت ظاہر کی۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ مینوپاز کے بعد بیضہ دانیاں صرف غیر فعال نہیں ہوتیں بلکہ اپنی شناخت بدل لیتی ہیں۔ وہ ایک تولیدی عضو سے تبدیل ہو کر مدافعتی نظام جیسے عضو کی خصوصیات اختیار کر لیتی ہیں۔
اس دوران بیضہ دانی میں ٹی سیلز ، میکروفیجز اور بڑے کثیر النواتی خلیات جمع ہونے لگتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ تولیدی صلاحیت ختم ہونے کے بعد بھی اس عضو میں حیاتیاتی تبدیلیاں جاری رہتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق، بیضہ دانیاں مینوپاز کے بعد ایسے کیمیائی سگنلز خارج کرنا شروع کر دیتی ہیں جو جسم میں سوزش کو بڑھا سکتے ہیں۔ یہ سگنلز صرف بیضہ دانی تک محدود نہیں رہتے بلکہ جسم کے دیگر اعضا کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسرے الفاظ میں، بیضہ دانیاں جسم میں بڑھاپے سے متعلق تبدیلیوں کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہیں۔
یہ دریافت بیضہ دانی کو ایک “کام ختم کر چکے عضو” کے بجائے ایک ایسے فعال عضو کے طور پر پیش کرتی ہے جو مینوپاز کے بعد بھی ہارمونز اور کیمیائی پیغامات کے ذریعے جسم کی صحت پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔
یہ تحقیق اس پرانے نظریے کی بھی تردید کرتی ہے کہ مینوپاز کے بعد بیضہ دانیاں مکمل طور پر غیر فعال ہو جاتی ہیں۔
اس کے برعکس اب شواہد بتاتے ہیں کہ وہ مدافعتی نظام سے وابستہ نئی شناخت اختیار کر لیتی ہیں، جو سائنس دانوں کے لیے عمر رسیدگی، سوزش اور تولیدی اعضا کے جسمانی صحت پر اثرات کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ فراہم کرتی ہے۔
یہ دریافت مستقبل میں ایسی نئی تحقیقات کی راہ ہموار کر سکتی ہے جو یہ جاننے میں مدد دیں گی کہ سوزش، لمبی عمر اور خواتین کی مجموعی صحت کے درمیان کیا تعلق ہے۔




















