یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہمارا غالب ہاتھ اس لیے بہتر اور ماہر ہوتا ہے کیونکہ ہم نے بچپن سے اسی ہاتھ سے پیچیدہ اور باریک کاموں کی سب سے زیادہ مشق کی ہوتی ہے۔
اس نظریے کو جانچنے کے لیے محققین نے ایک منفرد تجربہ کیا۔ انہوں نے دائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد سے پہلے اپنے ہاتھوں کے ذریعے انگریزی حرف A اور ہندسہ 8 لکھوایا، پھر انہی افراد کی کہنی کے ساتھ قلم باندھ کر یہی الفاظ دوبارہ لکھوائے۔

نتائج حیران کن تھے۔ تحقیق میں شریک افراد اپنی دائیں کہنی سے بھی اتنا ہی ناقص لکھ رہے تھے جتنا بائیں کہنی سے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیے گئے تجزیے میں بھی دونوں کے درمیان کوئی نمایاں فرق سامنے نہیں آیا، حالانکہ تمام شرکا دائیں ہاتھ سے کام کرنے والے تھے۔
اس کے بعد محققین نے شرکا کو کہنی سے لکھنے کی باقاعدہ مشق کروائی۔ چند تربیتی نشستوں کے بعد دونوں کہنیوں سے لکھنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی خواہ کسی بھی ہاتھ سے کام کرنے کے عادی ہو۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی مٹھاس صحت کے لیے واقعی محفوظ ہے؟ نئی تحقیق نے اہم سوالات اٹھادیے
محققین کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی عضو کی مہارت پیدائشی نہیں بلکہ مسلسل مشق سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر کسی ایسے عضو کو، جس نے پہلے کبھی کوئی خاص کام نہ کیا ہو، مناسب تربیت دی جائے تو وہ بھی وقت کے ساتھ بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف احمد آراج کے مطابق غالب بازو اس لیے زیادہ مؤثر نہیں ہوتا کہ دماغ کا ایک حصہ فطری طور پر حرکات پر بہتر کنٹرول رکھتا ہے بلکہ اس لیے کہ انسان پوری زندگی لکھنے، اوزار استعمال کرنے اور دیگر باریک حرکات کی مسلسل مشق کرتا رہتا ہے۔ جب یہی مشق کسی ایسے عضو سے کرائی جائے جس نے پہلے یہ کام نہ کیا ہو تو غالب ہاتھ کی برتری ختم ہو جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے انسانی دماغ، سیکھنے کے عمل اور بحالیٔ صحت (ری ہیبلیٹیشن) سے متعلق مستقبل کی تحقیق میں بھی نئی راہیں کھل سکتی ہیں خصوصاً ایسے مریضوں کے لیے جنہیں فالج یا دیگر اعصابی بیماریوں کے بعد دوبارہ جسمانی حرکات سیکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔




















