سب ہی جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی، جسمانی سرگرمی کی کمی اور غیر صحت بخش غذا صحت کے لیے نقصان دہ ہیں تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزمرہ کی کئی ایسی عادات بھی ہیں جو قبل از وقت موت کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔
سائنس دان برسوں سے ایسی تمام عادات جاننے کے لیے تحقیق کر رہے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض عادات براہِ راست صحت پر منفی اثر ڈالتی ہیں جبکہ کچھ صرف خطرے سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے ساتھ دیگر عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔
زیادہ وقت گھر کے اندر گزارنا

طویل عرصے تک گھر یا بند جگہوں میں رہنا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گھروں کے اندر کی ہوا بعض اوقات باہر کی ہوا سے بھی زیادہ آلودہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دھوپ نہ ملنے سے جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی (سرکیڈین ردھم) متاثر ہوتی ہے اور وٹامن ڈی کی کمی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا

مسلسل بیٹھے رہنے کی عادت عمر میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو دفتر میں گھنٹوں میز کے سامنے بیٹھ کر کام کرتے ہیں، انہیں وقفے وقفے سے کھڑے ہونے یا چہل قدمی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بہت کم نیند لینا

تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص روزانہ پانچ گھنٹے سے بھی کم نیند لیتا ہے تو اس میں قبل از وقت موت کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے جو مناسب دورانیے کی نیند لیتے ہیں۔
ضرورت سے زیادہ سونا

صرف کم نیند ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ سونا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص باقاعدگی سے نو گھنٹے سے زیادہ سوتا ہے تو اس میں ذیابیطس اور دل کی شریانوں کی بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جو عمر میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
سرخ گوشت کا زیادہ استعمال
کبھی کبھار اسٹیک یا برگر کھانا نقصان دہ نہیں لیکن روزانہ سرخ گوشت کھانے سے قبل از وقت موت کا خطرہ تقریباً 13 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

پراسیسڈ گوشت کا زیادہ استعمال
پراسیسڈ گوشت جیسے ساسیجز اور مختلف ڈبہ بند یا محفوظ کیے گئے گوشت بھی صحت کے لیے نقصان دہ سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مرغی کا گوشت استعمال کرنے سے موت کا خطرہ تقریباً 14 فیصد جبکہ مچھلی کھانے سے تقریباً 7 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
دانتوں کی صفائی میں غفلت

دانتوں کی درست صفائی نہ کرنا صرف منہ کی ہی نہیں بلکہ دل کی صحت پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے، اس لیے روزانہ برش کے ساتھ فلاس کا استعمال بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
موبائل فون استعمال کرتے ہوئے غلط انداز میں بیٹھنا

صوفے یا کرسی پر جھک کر طویل وقت موبائل استعمال کرنے سے جسمانی ساخت متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں پھیپھڑوں کی کارکردگی بھی کم ہو سکتی ہے۔
مصالحے دار کھانوں سے پرہیز

ایک تحقیق کے مطابق روزانہ مصالحے دار غذا کھانے والے افراد میں قبل از وقت موت کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً 14 فیصد کم دیکھا گیا جو ہفتے میں صرف ایک بار ایسی غذا کھاتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک تعلق ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ مصالحے دار غذا براہِ راست عمر بڑھاتی ہے۔
روزانہ ٹریفک میں پھنسے رہنا

طویل وقت ٹریفک میں گزارنا ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق لمبا روزانہ سفر مردوں اور خواتین دونوں کی صحت کو متاثر کرتا ہے، تاہم خواتین پر اس کے اثرات نسبتاً زیادہ دیکھے گئے ہیں۔
مستقل ناخوش رہنا

مسلسل منفی جذبات اور ذہنی دباؤ جسم میں تناؤ کے ہارمون کورٹیسول کی مقدار بڑھا دیتے ہیں جس سے بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر یہ کیفیت طویل عرصے تک برقرار رہے تو صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سماجی تعلقات سے دور رہنا

انسان فطری طور پر سماجی مخلوق ہے۔ 148 مختلف مطالعات پر مبنی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مضبوط سماجی تعلقات رکھنے والے افراد میں قبل از وقت موت کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد کم ہوتا ہے جو تنہائی رہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، مناسب نیند، باقاعدہ ورزش، مضبوط سماجی تعلقات اور ذہنی دباؤ پر قابو پانے کی عادات نہ صرف زندگی کے معیار کو بہتر بناتی ہیں بلکہ طویل اور صحت مند زندگی گزارنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔




















