Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

خواب میں پرانی باتیں کیوں یاد آتی ہیں؟ ماہرینِ نفسیات کا اہم انکشاف

عام تصور کے برعکس دماغ صرف ماضی کے واقعات محفوظ نہیں رکھتا بلکہ انہی تجربات کی بنیاد پر مستقبل کے لیے بہتر فیصلے کرنے کی کوشش کرتا ہے

بہت سے لوگ سونے کی کوشش کرتے وقت یا رات کے کسی پہر اچانک پرانی گفتگو، شرمندگی کے لمحات یا ماضی کے واقعات کو بار بار یاد کرنے لگتے ہیں اور بعد میں یہی واقعات خواب کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق یہ صرف بے چینی یا ضرورت سے زیادہ سوچنے کا نتیجہ نہیں، بلکہ دماغ کا مستقبل کے لیے خود کو تیار کرنے کا ایک فطری عمل بھی ہو سکتا ہے۔

 کی ایک رپورٹ کے مطابق اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ذہن اگلے دن کے کاموں کے بجائے چند روز قبل کسی دوست کے ساتھ ہونے والی گفتگو یا کسی ایسے لمحے کو دہرانا شروع کر دیتا ہے جس میں انسان کو لگتا ہے کہ وہ بہتر انداز میں بات کر سکتا تھا۔ کبھی کوئی ناکام مذاق، کوئی شرمندہ کرنے والا واقعہ یا کوئی اہم ملاقات یاد آ جاتی ہے جس میں شرکت نہ ہو سکی ہو۔

دماغ ماضی نہیں، مستقبل کے لیے کام کرتا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ عام تصور کے برعکس دماغ صرف ماضی کے واقعات محفوظ نہیں رکھتا بلکہ انہی تجربات کی بنیاد پر مستقبل کے لیے بہتر فیصلے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اعصابی سائنس کے مطابق ہر سماجی غلطی، غیر آرام دہ تجربہ یا شرمندگی کا لمحہ دماغ کے لیے ایک سبق بن جاتا ہے تاکہ آئندہ ایسی صورتِ حال میں بہتر ردِعمل دیا جا سکے۔

اسی دوران دماغ خود سے سوال کرتا ہے کہ کیا ہوا تھا کیا رہ گیا تھا اور اگلی بار کیا مختلف کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل کا مقصد انسان کو پریشان کرنا نہیں بلکہ اسے سیکھنے اور بہتر ہونے میں مدد دینا ہوتا ہے۔

رات کو یہ خیالات زیادہ کیوں آتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق جب جسم آرام کی حالت میں ہوتا ہے تو دماغ کا ایک نظام جسے ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک کہا جاتا ہے زیادہ فعال ہو جاتا ہے۔ یہ نظام یادداشت، خود احتسابی، مستقبل کے ممکنہ حالات کا تصور کرنے اور مختلف منظرناموں پر غور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے جیسے دماغ کے اندر ایک منصوبہ بندی کرنے والی ٹیم خاموشی سے آنے والے وقت کی تیاری میں مصروف ہو۔ اگرچہ یہ عمل بنیادی طور پر فائدہ مند ہوتا ہے لیکن بعض اوقات یہی نظام حد سے زیادہ سرگرم ہو کر منفی خیالات کو بار بار دہرانے لگتا ہے۔

منفی سوچ کب مسئلہ بن جاتی ہے؟

جب دماغ کسی مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے بار بار انہی منفی خیالات میں الجھا رہے تو اس کیفیت کو رومینیشن کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کیفیت اکثر بے چینی اور ذہنی دباؤ سے منسلک ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ ذہنی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔

منفی خیالات پر قابو کیسے پایا جائے؟

ماہرین کا مشورہ ہے کہ ماضی کی غلطیوں پر مسلسل افسوس کرنے کے بجائے یہ سوچنے کی کوشش کریں کہ اس تجربے سے کیا سیکھا جا سکتا ہے۔ اس طرزِ فکر سے انسان غیر ضروری اجترار سے نکل کر تعمیری غور و فکر کی طرف آتا ہے جس سے جذباتی مضبوطی، خود پر قابو پانے کی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی مہارت بہتر ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ اپنے خیالات یا سیکھے گئے سبق کو لکھ لینا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب انسان اپنے خیالات تحریر کر لیتا ہے تو دماغ کو یہ اطمینان ہو جاتا ہے کہ ضروری معلومات محفوظ ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں ذہنی دباؤ اور بار بار آنے والے غیر ضروری خیالات میں کمی آ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں