سگریٹ چھوڑنے والوں کے جسم میں کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں؟


اریبہ نثارویب ایڈیٹر

10th June, 2020

سگریٹ چھوڑنے والوں کو شروعات میں کن کن جسمانی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تفصیلات  کے مطابق تازہ ترین ریسرچ سے سگریٹ نوشی کے ان نقصانات کا بھی پتہ چلا ہے، جو پہلے معلوم نہیں تھے۔ اس سے صرف پھیپھڑوں کا کینسر ہی نہیں اندھا پن، ذیابیطس، جگر اور بڑی آنت کا کینسر ہو سکتا ہے۔

امریکا میں بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے ادارے (سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر تھامس فریڈن کہتے ہیں کہ تمباکو نوشی امریکا میں قبل از موت کا سبب بننے والی سب سے بڑی بیماری ہے۔

 تمباکو نوشی کے نتیجے میں پھیپھڑوں کے کینسر سے 84 فیصد جبکہ 83 فیصد ’ کرونک آبسریکٹیو پلمونری ڈیزیز‘ سے موت واقع ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

اس حوالے سے طبی ماہرین کے مطابق تمبا کو نوشی ایک جان لیوا منفی عادت ہے جس میں صحت کے ساتھ پیسہ بھی ضائع ہوتا ہے۔

پریشان کُن بات یہ ہے کہ بہت سے افراد تمباکو نوشی چھوڑنا بھی چاہیں تو اُن لوگوں کے لیے یہ آسان فیصلہ نہیں ہوتا ہے۔

 جبکہ چند افراد تمباکو نوشی چھوڑنے کے بعد جسمانی اور ذہنی طور پر آنے والی مشکلات سے خوفزدہ ہو کر اس سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر پاتے۔

یہ حقیقت ہے کہ تمباکو نوشی چھوڑنا اتنا آسان نہیں جتنا لگتا ہے۔

کیونکہ اس کے نتیجے میں تمباکو نوشی کے عادی فرد کو جسمانی اور ذہنی مشکلات سے لڑنا پڑتا ہے ساتھ ہی قریبی دوستوں سے مدد چاہیے ہوتی ہے جو بار بار ان کے فیصلے کی تعریف کریں اور دوبارہ تمباکو کے قریب جانے سے روکیں۔

یاد رہے کہ اگر سگریٹ کی عادت پرانی ہے تو اسے چھوڑنے کے لیے ذہنی امراض کے ماہر کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔

دوسری جانب تمباکو نوشی چھوڑنے کے نتیجے میں جسمانی طور پر دل کی صحت ، ہارمونز ، میٹابالزم میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ سگریٹ کی طلب کے نتیجے میں طبعیت میں غصہ، مایوسی اور چڑچڑا پن  بھی آ جاتا ہے ۔

ان سب مشکلات کا سامنا 5 سے 6 ہفتوں تک کرنا پڑتا ہے۔

سگریٹ چھوڑنے کے نتیجے میں بھوک میں کمی واقع ہوتی ، سگریٹ کی پہلے سے زیادہ طلب محسوس ہوتی، جسم میں درد، سر درد، چکر آنا اورکھانسی کی شکایت ہونا عام بات ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ سگریٹ چھوڑنے کے نتیجے میں کیمیکل کا استعمال ختم ہو جاتا ہے اس لیے بھوک نہیں لگتی۔

ان تمام تر شکایتوں سے بچنے کے لیے پھل ، سبزیوں ، دلیے اور چکی کے آٹے کا استعمال کر کے خود کو ان شکایتوں سے بچایا جا سکتا ہے ۔

دورانِ تمباکو نوشی سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اس لیے اسے چھوڑنے کے نتیجے میں 2 یا 3 ہفتوں کے لیے ذہنی پریشانیاں اور ذہنی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

سگریٹ چھوڑنے سے پہلے خود کو مندرجہ ذیل صورتحال سے لڑنے کے لیے ذہنی طور پر تیار کر لیں ۔

30 منٹ سے لے کر 4 گھنٹوں میں سگریٹ پینے کی طلب ہوگی۔

10 گھنٹوں میں بےچینی اور افسردگی بڑھ جائے گی ۔

24 گھنٹوں کے دوران چڑچڑا پن بڑھے گا اور بھوک ختم ہو جائے گی ۔

2 دن میں نیکوٹین کی مقدار نہ ملنے پر سر درد ختم ہونا شروع ہو جائے گا ۔

تیسرے دن سگریٹ کی طلب محسوس ہونا ختم ہو جائے گی جبکہ پریشانی ، ذہنی دباؤ مزید بڑھنے لگے گا۔

ایک ہفتے میں پریشانی بڑھتی رہے گی اور تمباکو کی طلب دوبارہ محسوس ہوگی۔

البتہ چوتھے ہفتے میں کمزوری محسوس ہوگی، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کم ہوگا اور تو اور قدرتی طور پر بھوک محسوس ہونے لگے گی جبکہ تمباکو کی طلب کبھی کبھار محسوس ہوگی ۔

اس کے علاوہ پانچویں ہفتے میں نیکوٹین کے مضر اثرات جسم سے خارج ہو جائیں گے۔

اس وقت میں خود کو پہلے سے زیادہ مضبوط رکھے تاکہ پھر سے اس لت میں نہ پڑے۔

اس کے عالاوہ اگر تباکو نوشی چھوڑنے کے بعد حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں بتاوں کے کتنے دن میں فوائد نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ 20 منٹ سگریٹ نہ پینے سے بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن متوازن ہو جاتی اور 8 گھنٹوں میں خون میں نیکوٹین اور کاربن مونو آکسائیڈ کی سطح آدھی ہو جاتی ہے۔

اس کے علاوہ جسم میں خون کی ترسیل میں بہتری آتی ہے اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہو جاتا ہے جبکہ جسم میں آکسیجن کی سطح بھی بہتر ہو جاتی ہے ۔

12 گھنٹوں کے دوران کاربن مونو آکسائیڈ کی سطح مثبت سطح پر آ جاتی ہے۔

24 گھنٹوں کے دوران کاربن مونو آکسائیڈ مکمل طور پر پھیپھڑوں سے خارج ہو جاتی ہے۔

 جبکہ پھیپھڑے کھانسی کے ذریعے صفائی کا عمل شروع کر دیتے ہیں ۔

72 گھنٹوں کے دوران پھیھڑوں میں پہلے سےزیادہ ہوا بھرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے ۔

1 سے 2 ہفتوں کے درمیان پھیپھڑوں میں خون کی ترسیل کا عمل بہتر ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ کہ1  مہینے میں خون کی ترسیل صحیح ہونے کے نتیجے میں جلد سمیت جسمانی اعضاء میں غذائیت بھرپور طریقے سے سرائیت کرنے لگتی ہے اور جھریوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

واضح رہے کہ  1 سال کے دوران تمباکو نوشی کے عادی کے مقابلے میں دل کا دورہ پڑنے کے خدشات آدھے ہو جاتے ہیں حد تا کہ 15 سال کے درمیان دل کا دورہ پڑنے کے خدشات ختم ہو جاتے ہیں۔