کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر تجارتی و اقتصادی حب ہے، حافظ نعیم الرحمن

Web Desk

07th Dec, 2021. 11:55 pm
حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر تجارتی و اقتصادی حب ہے۔

اپنے ایک بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گورنر سندھ کی جانب سے سندھ حکومت کے منظور کردہ بلدیاتی ترمیمی بل 2021کو واپس کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں، سندھ حکومت نے اسمبلی سے غیر جمہوری طریقہ اور رویہ اختیار کرتے ہوئے کراچی دشمن کالا بلدیاتی بل پاس کروایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے وزراء اور نمائندے عوام کو بے وقوف بنانے، دھوکا دینے، اہل کراچی کے جائز اور قانونی حقوق غصب کرنے کا سلسلہ بند کریں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ  گورنر سندھ وفاق کے نمائندے ہیں، وفاق کی ذمہ داری تھی کہ تمام صوبوں کے لیے ایسی قانون سازی کی جاتی کہ بلدیاتی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا عمل جاری رہتا، سندھ کی عوام کے حقوق غصب کیے گئے اور اختیارات بلدیاتی اداروں کو منتقل نہیں ہوئے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کی عوام کے ساتھ جہاں پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت ناانصافی اور حق تلفی کررہی ہے جبکہ وفاق میں موجود پی ٹی آئی کا رویہ اور طرز عمل بھی کراچی دشمنی ہی رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  اہل کراچی کے ساتھ پیکیجز کے نام پر بار بار وعدے کر کے ان کو دھوکا دیا جارہا ہے، جعلی مردم شماری جس میں کراچی کی آدھی آبادی کو غائب کردیا گیاہے اسے منظور کیا گیا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ کوٹہ سسٹم میں غیر معینہ مدت تک اضافہ کیا گیا جو کسی طرح بھی اہل کراچی کے حق میں بہتر نہیں، صرف حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے سوا کوئی پارٹی اس بل کے حق میں نہیں ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ بل نہ صرف کراچی دشمن بلکہ سندھ دشمن بھی ہے، کراچی سمیت سندھ بھر کے بلدیاتی اداروں کو مفلوج اور غیر مؤثر بنانے کی کوشش ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر تجارتی و اقتصادی حب ہے، وفاق اور صوبے کو چلانے والا تین کروڑ سے زائد آبادی کاحامل یہ شہر بے شمار مسائل اور مشکلات کا شکا ر ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ بجلی، پانی، سیوریج، ٹرانسپورٹ، صحت تعلیم سمیت شہر کے گھمبیر مسائل حل نہیں ہو رہے۔ کراچی کے تمام مسائل کا حل ایک بااختیار شہری حکومت قائم کرنے اور سندھ کے دارالخلافہ کو میگا میٹروپولیٹن سٹی کا درجہ دینے سے ہی وابستہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افسوس کہ پیپلزپارٹی نے موجودہ بلدیاتی بل میں اختیارات کے بڑھانے کے بجائے مزید کم کردیئے ہیں، سندھ حکومت کراچی کے وسائل پر اپنا کنٹرول اور شہری اداروں کو اپنے قبضے میں لیناچاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اس کالے بلدیاتی قانون کو مسترد کرتے ہوئے اہل کراچی کی بھرپور ترجمانی کی ہے، اس کالے قانون کے خلاف ہم کراچی کے عوام کا مقدمہ سڑکوں پر لڑیں گے اور عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔

حافظ نعیم الرحمن نے یہ بھی کہا کہ جماعت اسلامی بھرپور احتجاج،دھرنے اور ”یوم سیاہ“کے بعد اب اتوار 12دسمبر کو مزار قائد تا کے ایم سی ہیڈ آفس ایم اے جناح روڈ پر ایک تاریخی و عظیم الشان ”کراچی بچاؤ مارچ“ منعقد کرے گی۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ جماعت اسلامی پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کے غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدامات کے خلاف ہر قسم کے آئینی وقانونی اور سیاسی و جمہوری طریقے اختیار کر ے گی۔

Square Adsence 300X250