اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج نے ڈاکٹر اکبر نیازی ٹیچنگ اسپتال کے اشتراک سے مارگلہ ہائیکنگ ٹریل تھری پر ’’موٹاپے کے خلاف ہائیک‘‘ کا ایک پُرجوش اور بامقصد انعقاد کیا۔
یہ سرگرمی محض ایک واک نہیں بلکہ صحت مند طرزِ زندگی کی جانب عملی پیغام کی جیتی جاگتی تصویر تھی، جہاں کلاس رومز کی سنجیدگی کی جگہ پہاڑوں کی تازگی نے لے لی۔
تقریب کا آغاز رنگا رنگ اور بھر پورانداز میں ہوا، جس میں ربن کاٹنے اور مقابلے کے آغاز کی تقاریب شامل تھیں۔ اس ماحول دوست مہم کو کامیابی سے مکمل کرنے میں پروفیسر ڈاکٹر احمد رضا کی قیادت میں آئی ایم ڈی سی ہائیک اینڈ ایڈونچر کلب نے، کلیدی کردار ادا کیا اور ذمہ دارانہ تفریح کی ایک عمدہ مثال قائم کی۔
سات سو سے زائد شرکاء، جن میں میڈیکل، ڈینٹل، فزیکل تھراپی، میڈیکل لیب ٹیکنالوجی اور نرسنگ کے طلبہ و طالبات، اساتذہ، عملی میدان میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز و سرجنز اور ہیلتھ کیئر مینجمنٹ کے نمائندگان شامل تھے، پُرجوش انداز میں دلکش پہاڑی راستے پر گامزن رہے۔

اس موقع پر اداروں کی اعلیٰ قیادت بھی ساتھ ساتھ موجود رہی اور شرکاء کی حوصلہ افزائی کرتی رہی، جبکہ شرکاء ہائیکنگ کے دوران راستے سے کچرے کو بھی صاف کرتے رہے، پہاڑوں کی قدرتی خوبصورتی کے تحفظ کی بہترین مثال قائم کرنے انہیں خوب سراہا گیا۔
اس موقع پر جی اے کے ہیلتھ کیئر کے گروپ سی ای او یاسر خان نیازی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسی سرگرمیاں محض تفریح نہیں بلکہ ادارے کے اس وژن کا عملی اظہار ہیں جس کے تحت طلبہ کو صرف کامیاب ڈاکٹرز، نرسز اور ہیلتھ کئیر ورکرز ہی نہیں بلکہ ہمہ جہت، باشعور اور معاشرے سے جڑے ہوئے پیشہ ور افراد بنایا جاتا ہے- یعنی ایسے افراد جو سیکھنے کے جذبے، اخلاقی اقدار، سماجی خدمت اور صحت مند زندگی کے اصولوں کو اپنی شناخت بنائیں۔
شہر جہاں عموماً سیاسی بحثوں اور ٹریفک کے شور سے پہچانا جاتا ہے، وہاں اس دن پہاڑی راستے قہقہوں، قدموں کی چاپ اور ایک مضبوط پیغام سے گونجتے رہے اور مستقبل کے معالجین نے صحت کا محض درس نہیں دیا بلکہ اس صحت مندانہ سرگرمی کے ذریعے خود اس پر عمل کر کے دکھایا۔
جی اے کے ہیلتھ کیئر کمیونیکیشنز کے سربراہ عمران علی غوری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےاسی احساس کو اجاگر کیا۔
تقریب کا اختتام خوشگوار اور یادگار انداز میں ہوا، جہاں موسیقی، دلچسپ سرگرمیوں اور مقابلے میں کامیاب ہونے والے طلبہ میں انعامات کی تقسیم نے ماحول کو مزید دلکش بنا دیا۔ طلبہ، والدین، اساتذہ اور دیگر شرکاء نے انتظامیہ کو اس کامیاب اقدام پر سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں جاری رہنی چاہیے جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ صحت کا پیغام سنجیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوشگوار بھی ہو سکتا ہے۔


















