کراچی: انمول پنکی کیس کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی گئی ہے جب کہ کال ڈیٹا اور واٹس ایپ ریکارڈ نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں ایس آئی او ظفر کے کردار سے متعلق اہم سوالات اٹھ گئے ہیں، رپورٹ کے مطابق ایس آئی او ظفر نے کیس سے متعلق ایس پی انویسٹی گیشن کو بروقت آگاہ نہ کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صبح 8 بج کر 24 منٹ پر ایس آئی او ظفر نے ایس پی انویسٹیگیشن کو صرف ایک وائس میسج چھوڑا جب کہ وائس میسج میں درج ایف آئی آرز کو معمول کا معاملہ قرار دیا گیا ہے۔
انکوائری میں ایس ایچ او کا بیان دیا کہ ملزمہ کو جلد عدالت میں پیش کرنا ایس ایس پی سٹی کے احکامات پر کیا گیا جب کہ وہ مسلسل ایس ایس پی سٹی کے رابطے میں رہے اور صورتحال سے آگاہ کرتے رہے۔
کال ڈیٹا اور واٹس ایپ ریکارڈ نے کیس میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، صبح 06 بج کر 32 منٹ پر پہلی کال کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ریکارڈ کیا گیا جب کہ صبح 08 بج کر 38 منٹ پر دوسری کال کا دورانیہ 30 سیکنڈ سامنے آیا۔
صبح 09 بج کر 44 منٹ پر تیسری کال ہوئی جس کا دورانیہ 2 منٹ تھا، صبح 10 بج کر 48 منٹ پر چوتھی کال کا دورانیہ 2 منٹ رہا اور دوپہر 03 بج کر 13 منٹ پر پانچویں کال کا دورانیہ 1 منٹ ریکارڈ کیا گیا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کال ریکارڈز اور رابطوں کی تفصیلات شامل کرلی گئیں ہیں جب کہ کیس میں پولیس افسران کے رابطوں اور فیصلوں کی جانچ تیز کردی گئی ہے۔

















