وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا ہے جس کے لیے 19 نکاتی ایجنڈا تیار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں مختلف وزارتوں اور اداروں کی مالی ضروریات، سیکیورٹی اقدامات اور خصوصی گرانٹس سے متعلق متعدد اہم سمریوں پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں ہونے والے بم دھماکے کے متاثرین اور زخمیوں کے لیے معاوضہ پیکج کی منظوری کے لیے سمری پیش کی جائے گی۔ اس دھماکے میں متاثر ہونے والے خاندانوں کی مالی معاونت کے حوالے سے تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔
ایجنڈے میں امن مذاکرات کے دوران سیکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنانے کے لیے اضافی فنڈز کی فراہمی کی سمری بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے اس مقصد کے لیے 69 کروڑ 29 لاکھ روپے کے اضافی فنڈز طلب کیے ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ امن مذاکرات کے دوران فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اضافی وسائل درکار ہیں۔
اجلاس میں پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی کے لیے 52 کروڑ 80 لاکھ روپے کی گرانٹ کی درخواست بھی زیر غور آئے گی جبکہ وزارت داخلہ کے رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ سے متعلق سفارشات پر مبنی سمری بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) کے لیے 15 کروڑ روپے کے فنڈز کی فراہمی کی منظوری بھی طلب کی جائے گی۔ اسی طرح بلوچستان میں ریکوڈک منصوبے کے سیکیورٹی انتظامات کے لیے فرنٹیئر کور (ایف سی) کو 41 کروڑ 39 لاکھ روپے فراہم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے لیے 3 ارب روپے کی ضمنی گرانٹ کی سمری پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کے لیے فنڈز کی فراہمی کی درخواست بھی منظوری کے لیے رکھی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت پارلیمانی امور کے لیے 12 کروڑ روپے کے فنڈز کی فراہمی کی سمری بھی ایجنڈے میں شامل ہے جبکہ پاکستان منٹ کو ایک ارب 30 کروڑ روپے فراہم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ای سی سی کے اجلاس میں پیش کی جانے والی مختلف سمریوں پر بحث کے بعد مالی وسائل کی فراہمی اور فنڈز کی منظوری سے متعلق حتمی فیصلے کیے جائیں گے، جن کے اثرات مختلف سرکاری اداروں اور جاری منصوبوں پر مرتب ہوں گے۔


















