جنوبی اٹلی کے زرعی علاقے میں ایک لرزہ خیز واقعے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے جہاں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کو گاڑی میں زندہ جلا کر ہلاک کر دیا گیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے۔
اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ کالابریا کے علاقے میں واقع ایمینڈولارا نامی گاؤں کے قریب پیش آیا جہاں ایک پیٹرول پمپ کے نزدیک جلی ہوئی منی وین ملی۔ فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار افراد کی لاشیں برآمد کیں۔
تحقیقات میں سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر دو افراد کو دیکھا گیا ہے جو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے ہیں اس کے بعد گاڑی کے اندر کسی آتش گیر مادے جیسا مائع پھینکا جاتا ہے اور چند لمحوں بعد آگ بھڑک اٹھتی ہے۔
دونوں ملزمان نے گاڑی کے باہر کھڑے ہو کر دروازوں کو اندر سے کھولنے کی کوشش کو بھی متعدد بار ناکام بنایا، فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی کے اندر موجود افراد نے باہر نکلنے کی متعدد بار کوشش کی جسے ملزمان نے ناکام بنا دیا فوٹیجز کے مطابق دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔
پولیس حکام نے اس واقعے کو باضابطہ طور پر قتل قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اب تک اس کیس میں دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ مزید پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔
مقامی پولیس چیف کا کہنا ہے کہ تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ اصل محرکات تک پہنچا جا سکے۔ ان کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ کارفرما ہے۔
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اسی علاقے میں حالیہ مہینوں کے دوران پاکستانی مزدوروں کو لے جانے والی گاڑیوں کو آگ لگانے کے تقریباً 14 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
مقامی سطح پر ان واقعات کی وجہ مہاجر مزدوروں کے درمیان کام، رہائش اور قانونی دستاویزات سے متعلق تنازعات کو قرار دیا جا رہا ہے تاہم اس تازہ واقعے نے صورتحال کو ایک نئے اور خوفناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔

















