تاریخ اپنے بڑے موڑ اکثر اس وقت ظاہر نہیں کرتی جب وہ وقوع پذیر ہورہے ہوتے ہیں۔ دنیا میں اہم تبدیلیاں عموماً علاقائی بحرانوں، عارضی ہلچل یا محدود جنگوں کی صورت میں سامنے آتی ہیں تاہم بعض اوقات کوئی ایسا تنازع جنم لیتا ہے جس کے اثرات میدانِ جنگ سے کہیں آگے بڑھ کر عالمی طاقت کے ڈھانچے کو بدلنا شروع کردیتے ہیں۔ ایران کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی بھی اب اسی نوعیت کا منظر پیش کررہی ہے۔
جو معاملہ ابتدا میں مشرقِ وسطیٰ کا ایک اور فوجی تنازع محسوس ہوتا تھا، اب اس میں کچھ زیادہ بڑے تغیرات کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام بتدریج کمزور ہورہا ہے اور اس کی جگہ ایک نئے تزویراتی ڈھانچے کی تشکیل جاری ہے۔ یہ تنازع اب صرف ایران، اسرائیل، جوہری صلاحیت یا اہم بحری گزرگاہوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اثر و رسوخ، توانائی، مالی طاقت، تکنیکی خودمختاری اور بالآخر عالمی اختیار کی نئی تقسیم کا معاملہ بن چکا ہے۔
اس بحران کا سب سے اہم پہلو وہ نہیں جو حکومتیں کھل کر بیان کرتی ہیں بلکہ وہ ہے جو ان کے عملی اقدامات ظاہر کرتے ہیں۔ کئی مہینوں تک دنیا کے سامنے فوجی دباؤ، باز رکھنے کی حکمت عملی، حکومت پر دباؤ اور جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کی باتیں کی جاتی رہیں لیکن عملی طور پر تمام بڑے فریق ایسے رویے اختیار کرتے رہے جیسے وہ ایک حقیقت کو سمجھ چکے ہوں کہ کوئی بھی فیصلہ کن فوجی فتح ایسے تباہ کن نتائج کے بغیر ممکن نہیں جو پورے عالمی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کردیں۔ اسی حقیقت نے حالات کا رخ بدل دیا۔
رفتہ رفتہ یہ تنازع روایتی جغرافیائی سیاسی کشمکش سے نکل کر برداشت، معاشی کمزوریوں اور ابھرتے ہوئے کثیر قطبی نظام میں تزویراتی پوزیشن کے مقابلے میں تبدیل ہوگیا۔ اس میدان میں ایران نے ایک غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ یہ روایتی معنوں میں فوجی برتری یا علاقائی فتح نہیں بلکہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایران نے دکھایا کہ ایک درمیانی درجے کی طاقت اگر توانائی کی عالمی گزرگاہوں پر اثر رکھتی ہو اور اسے طاقتوں کی بالواسطہ حمایت حاصل ہو تو وہ بغیر مکمل فوجی برتری کے بھی موجودہ غالب طاقت پر بھاری قیمت عائد کرسکتی ہے۔ یہ سبق خلیج سے کہیں دور تک اثر ڈالے گا۔
اس تنازع کا اصل مرکز تہران، تل ابیب یا واشنگٹن نہیں تھا بلکہ آبنائے ہرمز تھی۔ جدید دنیا توانائی کی مسلسل فراہمی پر چلتی ہے۔ عالمی معیشت، مالی منڈیاں، صنعتی پیداوار، بحری بیمہ اور سیاسی استحکام سب اس بات پر منحصر ہیں کہ توانائی کی ترسیل قابلِ پیش گوئی رہے۔ جب یہ پیش گوئی ختم ہوئی تو تزویراتی حساب کتاب بھی بدل گیا۔
آبنائے ہرمز کی بندش یا جزوی تعطل نے صرف تیل کی ترسیل کو خطرے میں نہیں ڈالا بلکہ اس عالمی نظام کی کمزوری بھی نمایاں کردی جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکی بحری تحفظ کے سائے میں پروان چڑھا۔ کئی دہائیوں تک امریکا نے سمندری راستوں کی حفاظت صرف فوجی ذمہ داری کے طور پر نہیں بلکہ عالمی معاشی نظام کی بنیادی ضرورت کے طور پر انجام دی۔ موجودہ بحران نے یہ خدشہ پیدا کردیا کہ شاید یہ ضمانتیں اب پہلے جیسی یقینی نہیں رہیں۔ اسی لیے اس جنگ کے نفسیاتی اثرات ممکنہ طور پر اس کے فوجی اثرات سے زیادہ گہرے ثابت ہوسکتے ہیں۔
دنیا کے بڑے دارالحکومت اب خاموشی سے اپنی پرانی سوچ پر نظرثانی کررہے ہیں۔ یورپ انحصار کے سوالات کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔ ایشیائی طاقتیں اپنی حکمت عملی پر غور کررہی ہیں۔ خلیجی ریاستیں اپنے تحفظ کے طریقوں کو متنوع بنارہی ہیں۔ حتیٰ کہ وہ ممالک بھی جو بظاہر واشنگٹن کے ساتھ کھڑے ہیں مستقبل کے مختلف امکانات پر سوچنے لگے ہیں۔
اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ امریکا زوال کا شکار ہورہا ہے۔ بڑی سلطنتیں اچانک ختم نہیں ہوتیں بلکہ ان کا غیر متنازع اختیار آہستہ آہستہ کمزور ہوتا ہے۔ اصل تبدیلی یہ ہے کہ کشیدگی بڑھانے کی طاقت پر اب کسی ایک فریق کی اجارہ داری نہیں رہی۔
پابندیوں، تنہائی اور مسلسل دباؤ کے باوجود ایران نے اپنی روایتی طاقت سے کہیں زیادہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت دکھائی۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ ایک ایسے غیر رسمی تزویراتی ماحول میں سرگرم رہا جو بڑھتے ہوئے انداز میں روس اور چین سے جڑا ہوا ہے۔
روس مغربی نظام کے خلاف دباؤ اور تزویراتی خلل پیدا کرتا ہے۔ چین صنعتی طاقت، مالی استحکام اور طویل المدتی منصوبہ بندی فراہم کرتا ہے۔ ایران توانائی کی راہداریوں، نظریاتی مزاحمتی نیٹ ورکس اور بحری دباؤ کے مقامات پر جغرافیائی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ تینوں روایتی فوجی اتحاد کی شکل میں نہیں بلکہ مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔
مغرب اب بھی اس حقیقت کو پوری طرح نہیں سمجھ رہا کیونکہ وہ عالمی سیاست کو روایتی اتحادوں اور معاہدوں کے زاویے سے دیکھتا ہے جب کہ ابھرنے والا نظام زیادہ لچکدار، موقع شناس اور لین دین پر مبنی ہے۔
چین اور امریکا کے حالیہ رابطے بھی اسی وجہ سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ بظاہر توجہ محصولات، برقی پرزہ جات اور تجارت پر رہی لیکن امریکی وفد کی ساخت کچھ اور اشارہ دے رہی تھی۔ جب کسی ملک کی قیادت صرف سفارت کاروں کے ساتھ نہیں بلکہ مالیات، صنعت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے نمائندوں کے ہمراہ مذاکرات کرے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ گفتگو عام دوطرفہ معاملات سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔
چین ماضی کے تجربات سے سبق سیکھ چکا ہے۔ وہ ایسی کسی مالی حکمت عملی سے بچنا چاہتا ہے جو اس کی برآمدات اور داخلی استحکام کو نقصان پہنچائے۔ اسی لیے وہ بتدریج ایسے متبادل نظام تشکیل دے رہا ہے جو اسے ایک ہی کرنسی پر انحصار سے نکال سکیں۔ سونے کے ذخائر، مقامی کرنسیوں میں تجارت، مرکزی بینکوں کا تعاون اور نئے ادائیگی نظام اسی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ممکن ہے مستقبل کا مالی نظام کسی ایک کرنسی پر مبنی نہ ہو بلکہ مختلف مالی دائروں پر مشتمل ہو۔ ایسے ماحول میں طاقت ایک مرکز میں جمع ہونے کے بجائے مختلف مراکز میں تقسیم ہوجائے گی۔
عالمی سطح پر افراطِ زر، اثاثوں کی نئی قیمتیں، رسد کے علاقائی نظام، صنعتی حکمت عملیاں اور توانائی کا تحفظ اب عارضی مسائل نہیں بلکہ آنے والے دور کی مستقل خصوصیات بنتی جارہی ہیں۔ بغیر رکاوٹ عالمگیریت کا دور اختتام کے قریب دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان کا کردار بھی قابلِ توجہ ہے۔ اسلام آباد بظاہر یہ سمجھتا ہے کہ کثیر قطبی دنیا میں درمیانی طاقتیں صرف کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑے ہوکر نہیں بلکہ مختلف طاقتوں کے درمیان رابطہ کار بن کر بھی اہمیت حاصل کرسکتی ہیں۔ یہی رجحان دوسرے کئی ممالک میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔
شاید سب سے بڑی تبدیلی ابھی آنی باقی ہے۔ اس تنازع کا سب سے گہرا اثر فوجی یا جغرافیائی نہیں بلکہ نفسیاتی ہوسکتا ہے۔ کئی دہائیوں تک دنیا اس یقین پر چلتی رہی کہ بعض چیزیں مستقل ہیں جیسے امریکی برتری، کھلے سمندری راستے، ایک مرکزی مالی نظام اور مستحکم عالمگیریت۔ اب یہ یقین کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
جب مستقل مزاجی پر اعتماد کمزور پڑجائے تو ممالک تسلسل کے بجائے غیر یقینی حالات کے لیے تیاری شروع کردیتے ہیں۔ یہی تبدیلی دفاعی منصوبہ بندی، صنعتی پالیسی، مالی ذخائر، اتحادوں، ٹیکنالوجی اور اندرونی سیاست سب پر اثر انداز ہوتی ہے۔
ہم ایک ایسے دور میں داخل ہورہے ہیں جہاں کارکردگی سے زیادہ اہمیت مضبوطی اور برداشت کو حاصل ہوسکتی ہے۔ شاید ایران کے بحران سے ابھرنے والا سب سے واضح پیغام یہی ہے۔ ممکن ہے یہ جنگ اس لیے یاد نہ رکھی جائے کہ پہلا حملہ کس نے کیا یا زیادہ نقصان کس نے پہنچایا بلکہ اس لیے کہ اس نے واضح کردیا کہ 1991 کے بعد قائم ہونے والا یک قطبی عالمی دور اپنی حدوں کو پہنچ چکا ہے۔
ایک نئے دور کی تشکیل جاری ہے۔ کہیں یہ عمل سربراہی ملاقاتوں کے ذریعے ہورہا ہے تو کہیں پابندیوں کے ذریعے، کہیں تیل کی ترسیل اور سونے کی نقل و حرکت کے ذریعے اور کہیں ایسی جنگوں کے ذریعے جنہیں کوئی فریق حقیقی معنوں میں جیتنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔
آنے والا عالمی نظام غالباً کسی ایک دارالحکومت کے زیرِ اثر نہیں ہوگا۔ وہ ان قوتوں کے ہاتھ میں ہوگا جو تبدیلی کے اس مرحلے کو سب سے بہتر انداز میں سمجھ سکیں اور تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے عبوری ادوار شاذ و نادر ہی پُرامن ہوتے ہیں۔

















