پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں عوامی مینڈیٹ کے تحفظ میں مسائل سامنے آئے تاہم اس بار پارٹی ووٹ کے مکمل تحفظ کے لیے منظم حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے گی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں عوامی رائے کے مطابق پارٹی کو زیادہ نشستیں ملنی چاہئیں تھیں مگر نتائج میں اختلافات سامنے آئے اور مبینہ طور پر عوامی مینڈیٹ متاثر ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار کارکنان اور عوام کو فارم 45 کی سطح پر ووٹ کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ کسی قسم کی ناانصافی نہ ہو۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ گلگت بلتستان کے ہر علاقے میں جا کر پارٹی کا منشور پیش کر چکے ہیں اور عوامی مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کا گلگت بلتستان کے ساتھ تین نسلوں پر محیط تعلق ہے اور پارٹی ہمیشہ اس خطے کی آواز رہی ہے۔
خطاب کے دوران انہوں نے خطے کی سیاسی حیثیت اور آئینی حقوق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق دلانے کے لیے پرعزم ہے اور حقِ حکمرانی کے تصور کو عملی شکل دینے کے لیے اقدامات کرے گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال بھی تشویش ناک ہے جن میں فلسطین، لبنان اور خطے میں جاری کشیدگیاں شامل ہیں جبکہ ایران کے ساتھ پیش آنے والے حالات بھی عالمی سیاست کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں خطے کے عوام کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ کون ان کی بہتر نمائندگی کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دفاعی طور پر مضبوط ہے اور اسے کوئی کمزور نہیں کر سکتا، جبکہ ماضی میں ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کا فیصلہ ایک تاریخی قدم تھا جو آج قومی دفاع کی ضمانت ہے۔
خطاب میں انہوں نے ایران پاکستان گیس منصوبے اور توانائی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی طرف لے جانا ضروری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ خطے میں معاشی دباؤ اور عالمی بحران کے اثرات عام آدمی تک پہنچ رہے ہیں۔
بلاول بھٹو نے سابقہ سیاسی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں گلگت بلتستان کو شناخت اور نمائندگی دینے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کا مقصد صرف اقتدار نہیں بلکہ عوامی خدمت اور ادارہ جاتی اصلاحات ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر پیپلز پارٹی کو موقع ملا تو تمام سرکاری آسامیوں پر میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے گا، جیسا کہ سندھ میں مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آج کا دور ڈیجیٹل کنیکٹوٹی کا دور ہے، اس لیے گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں تک انٹرنیٹ اور جدید سہولیات پہنچانا ترجیح ہوگی۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں بھی بڑے منصوبوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ہر ڈویژن میں جدید طبی سہولیات فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو بھرپور مینڈیٹ دیا جائے تاکہ خطے کے آئینی، سیاسی اور معاشی مسائل کو حل کرنے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

















