Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

افغان طالبان رجیم کی دہشتگرد شناخت عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب

امریکی عدالت نے سابق طالبان کمانڈر حاجی نجیب اللہ کو 42 سال قید کی سزا سنائی

امریکی صحافی ڈیوڈ روہڈے، افغان صحافی اور ڈرائیور کے اغواء میں ملوث سابق طالبان کمانڈر حاجی نجیب اللہ کو امریکی عدالت سے سزا مل گئی۔

عالمی میڈیا کے مطابق امریکی عدالت نے سابق طالبان کمانڈر حاجی نجیب اللہ کو دہشت گردی، اغوا اور یرغمال بنانے کے جرم میں 42 سال قید کی سزا سنائی جس کے بعد عدالتی فیصلے نے طالبان کے دہشتگرد نیٹ ورک اور مجرمانہ کردار پر مہر ثبت کردی۔

عالمی میڈیا نے بتایا کہ سابق طالبان کمانڈر نے امریکی صحافی ڈیوڈ روہڈے اور دیگر افراد کے اغوا میں کردار کا اعتراف کر لیا جس کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ طالبان کمانڈر کا طرزِ عمل سفاکیت، دہشتگردی اور نفسیاتی تشدد کی بدترین مثال تھا۔

نیویارک کی وفاقی عدالت کا فیصلہ طالبان کی دہشت گرد سرگرمیوں کے خلاف اہم عالمی عدالتی نظیر بن گیا، امریکی پراسیکیوٹرز کے مطابق طالبان کمانڈر کے ماتحت دہشتگرد حملوں میں امریکی فوجیوں اور افغان مترجم کی ہلاکتیں بھی ہوئیں، متاثرہ امریکی صحافی نے عدالت میں طالبان کے اقدامات کو بزدلانہ، ظالمانہ اور غیر انسانی جرم قرار دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان کمانڈر نے یرغمالیوں کو تاوان اور قیدیوں کی رہائی کے لیے استعمال کرنے کا جرم بھی تسلیم کیا، عالمی عدالت کے فیصلے نے واضح کردیا کہ طالبان کی مسلح کارروائیاں مزاحمت نہیں بلکہ منظم دہشت گردی تھیں، افغان طالبان رجیم کی مجرمانہ شناخت عالمی سطح پر مزید مستحکم ہوگئی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کا مؤقف درست ثابت، اسلام آباد برسوں سے خطے میں دہشتگرد نیٹ ورکس کے خطرات سے آگاہ کرتا رہا ہے، پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی اور عسکریت پسندی پر اٹھائے گئے خدشات کو عالمی سطح پر تقویت ملی۔

عالمی میڈیا کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے نے ثابت کر دیا کہ صحافیوں، شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانا کھلی دہشت گردی ہے، دنیا نے ایک بار پھر تسلیم کیا کہ دہشت گردی کو کسی سیاسی یا نظریاتی پردے میں نہیں چھپایا جا سکتا۔

 عالمی میڈیا کے مطابق 42 سال قید کی سزا اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کے جرائم وقت گزرنے سے ختم نہیں ہوتے، افغان طالبان کے ماضی اور حال کے کردار پر عالمی سطح پر اٹھنے والے سوالات مزید گہرے ہو گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤقف دوٹوک ہونا چاہیے، طالبان ہو یا کوئی اور گروہ، قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔

متعلقہ خبریں